Tazkirul Quran, Qur’an 31:33–34
Luqman (Luqman)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
موجودہ دنیا میں امتحان کی مصلحت سے لوگوں کو آزادی دی گئی ہے۔ اس امتحانی آزادی کو آدمی حقیقی آزادی سمجھ لیتاہے۔ یہی سب سے بڑا دھوکا ہے۔ تمام انسانی برائیاں اسی دھوکہ کی وجہ سے پیداہوتی ہیں ۔ یہاں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان جو چاہے کرے کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں ۔ حالاں کہ آخر کار آدمی کے اوپر اتنا کٹھن وقت آنے والا ہے کہ باپ بیٹا بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے نہ بن سکیں گے۔
’’قیامت آنے والی ہے تو وہ کب آئے گی‘‘ ایسا سوال کرنا اپنی حد سے تجاوز کرناہے۔ انسان اپنی قریبی اور معلوم دنیا کے بارے میں بھی کل کی خبر نہیں رکھتا۔ مثلاً بارش، پیٹ کا بچہ، معاشی مستقبل، موت، ان چیزوں کے بارے میں کوئی قطعی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس علمی محدودیت کے باوجود انسان ان حقیقتوں کے واقعہ ہونے کو مانتا ہے۔ اسی طرح قیامت کی گھڑی کے بارے میں بھی اس کو مجمل خبر کی بنیاد پر یقین کرنا چاہیے۔
’’اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے‘‘۔ یہاں لڑکی یا لڑکے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ یہاں صرف یہ ہے کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی شخصیت کیا ہے، وہ سعید بنے گا یا سرکش، وہ انسانیت کے لیے خیر ہوگا یا شر، اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔سائنس کے نئے طریقے بچے کے صرف جسمانی وجود کو جان سکتے ہیں ، وہ بچہ کے روحانی اور فطری وجود کو نہیں جان سکتے۔ سائنس کا دائرہ فزیکل (physical)وجود تک محدود ہے، اسپریچول (spiritual) وجود یا انٹلکچول (intellectual) وجود تک سائنس کی پہنچ نہیں ۔ مگر اللہ کا علم انسانی شخصیت کے دونوں پہلوؤں تک محیط ہے۔ اس بارے میں سائنس کی محدودیت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔حتیٰ کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد بھی سائنس اس کے صرف فزیکل وجود کو جان سکتی ہے، اس کے اسپریچول وجود کو جاننے کے لیے سائنس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ۔