Tazkirul Quran (Urdu) · Prostration (Al-Sajdah)

Tazkirul Quran, Qur’an 32:15–17

Prostration (Al-Sajdah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

ہدایت کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز مادۂ اعتراف ہے۔ہدایت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جن کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب سچائی ان کے سامنے آئے تو وہ فوراً اس کو مان لیں۔ خواہ سچائی بظاہر ایک چھوٹے آدمی کے ذریعہ سامنے آئی ہو، خواہ اس کو ماننا اپنے آپ کو غلط قرار دینے کے ہم معنی ہو، خواہ اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ درہم برہم ہوتا ہوا نظر آئے، جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ ہو وہی سچائی کوپالیتے ہیں۔ جو لوگ یہ چاہیں کہ وہ سچائی کو اس طرح مانیں کہ ان کی بڑائی بدستور قائم رہے ایسے لوگوں کو سچائی کبھی نہیں ملتی۔

جو آدمی حق کی خاطر اپنی بڑائی کو کھودے وہ سب سے بڑی چیز کو پالیتا ہے اور وہ خدا کی بڑائی ہے اس کی زندگی میں خدا اس طرح شامل ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی یادوں کے ساتھ سوئے اور وہ اس کی یادوں کے ساتھ جاگے۔ اس کے خوف اور امید کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہوجائیں۔ وہ اپنا اثاثہ اس طرح خدا کے حوالے کردیتا ہے کہ اس میں سے کچھ بچا کر نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں جنت کے ابدی باغوں میں ٹھنڈی ہوں گی۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page