Tazkirul Quran, Qur’an 32:23–26
Prostration (Al-Sajdah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
خداکی کتاب کسی گروہ کو ملنا اس کو امامت عالم کی کنجی عطا کرنا ہے۔ مگرامامت عالم کا مقام کسی گروہ کو اس وقت ملتاہے جب کہ وہ صبر کا ثبوت دے۔ لَمَّا صَبَرُواکی تفسیر لَمَّا صَبَرُوا عَنِ الدُّنْيَا سے کی گئی ہے (تفسیرابن کثیر، جلد 3، صفحہ 463)۔ یعنی پیشوائی کا مقام انھیں اس وقت ملا جب کہ انھوں نے دنیا سے صبر کیا۔
موجودہ دور میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ خاموش فکری مہم کے ذریعہ فرد کی سطح پر ’’تعمیر شعور‘‘ کا کام کیا جائے۔یہ کام اگر صحیح انداز میں کیا جائے تو کچھ عرصہ کے بعدایک طرف اعلیٰ صلاحیت کے افراد کی ایک باشعور ٹیم تیار ہوجائے گی ۔ دوسری طرف عمومی سطح پر معاشرہ میں صالح تعمیری فضا پیدا ہوجائے گی۔ یہی وہ’’“صبر‘‘ ہے، جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔
لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انھیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کےلیے جئے جب کہ لوگ مفاد کےلیے جیتے ہیں ۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں ۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں ۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کےلیے دوڑتے ہیں ۔ جو اس وقت حق کےلیے قربان ہوجائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کےلیے قربان ہونا جانتے ہیں ۔ یہی صبر ہے اور جولوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں ۔
دین میں نئی نئی تشریح وتعبیر نکال کر جو لوگ اختلافات کھڑے کرتے ہیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخر کار خدا ان کی بات کو رد کردے اور اس کے بعد ابدی ذلت کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہ آئے— آدمی اکثر حالات میں سبق نہیں لیتا، یہاں تک کہ جو کچھ دوسروں پر گزرا وہی اس پر بھی نہ گزر جائے۔