Tazkirul Quran, Qur’an 33:18–20
The Confederates (Al-Ahzab)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ایک آدمی وہ ہے جو قربانی کے وقت پیچھے رہ جائے تو اس پر شرمندگی طاری ہوتی ہے۔ اس کا بولنا بند ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو قربانی کے وقت قربانی نہیں دیتا۔ اور پھر دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ یہ کوتاہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کوتاہی قابل معافی ہوسکتی ہے مگر ڈھٹائی قابلِ معافی نہیں۔
جن لوگوں کے اندر ڈھٹائی کی نفسیات ہو وہ بظاہر کوئی اچھا عمل کریں تب بھی وہ بے قیمت ہیں۔ کیوں کہ عمل کی اصل روح اخلاص ہے اور وہی ان کے اندر موجود نہیں۔
دین کےلیے قربانی نہ دینا ہمیشہ دنیا کی محبت میں ہوتاہے۔ آدمی اپنی دنیا کو بچانے کےلیے اپنے دین کو کھو دیتاہے۔ اس لیے ایسے لوگ جہاں دیکھتے ہیں کہ دین میں دنیا کا فائدہ بھی جمع ہوگیا ہے تو وہاں وہ خوب اپنے بولنے کا کمال دکھاتے ہیں، تاکہ دین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلق ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں مگر جہاں دین کا مطلب قربانی ہو وہاں دین دار بننے سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔