Tazkirul Quran, Qur’an 34:18–19
Sheba (Saba’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
برکت والی بستیوں سے مراد شام کا سر سبز وشاداب علاقہ ہے۔ اس سرسبز علاقہ میں یمن سے شام تک خوبصورت آبادیوں کی قطاریں چلی گئی تھیں ۔ ان کے درمیان سفر ایک قسم کی خوش گوار سیر بن گیا تھا۔ یہ ماحول اپنی حقیقت کے اعتبار سے ربانی جذبات پیدا کرنے والا تھا۔ گویا کہ خدا نے یہاں ایک خاموش سائن بورڈ لگادیاہو کہ— بے خوف وخطر چلو اور اپنے رب کا شکر کرو۔
مگر سبا کے غافل لوگ اس خدائی کتبہ کو نہ پڑھ سکے۔ انھوں نے اپنے رویہ سے ان خدائی نعمتوں کا استحقاق کھو دیا۔ چنانچہ وہ اس طرح مٹے کہ وہ ماضی کی داستان بن گئے۔ علاقہ کی تباہی کے بعد سبا کے مختلف قبائل اپنے وطن سے نکل کر دور دور کے علاقوں میں منتشر ہوگئے۔
قوم سبا کے واقعہ میں ہر انسان کے لیے اس بات کا سبق ہے کہ خدا کے شکر گزار بنو تو تمہارے لیے سب کچھ ہے اور ناشکری کرو گے تو تمھارا انجام دوبارہ وہی ہو گا جو قوم سبا کا ہوا ۔یہ واقعات تاریخ کے معلوم واقعات ہیں ۔ مگر ان کو جاننے والا حقیقۃ ً وہ ہے جو ان سے یہ سبق لے کہ اس کو خوش حالی ملے تو وہ فخر میں مبتلا نہ ہو۔ اس کو جو کچھ ملے اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر وہ خدا کا شکر گزار بن جائے۔