Tazkirul Quran, Qur’an 34:3–6
Sheba (Saba’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس لیے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔
مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔
حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔