Tazkirul Quran, Qur’an 34:40–42
Sheba (Saba’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
فرشتے انسان کو نظر نہیں آتے۔ یہ دراصل پیغمبر ہیں جنھوں نے انسان کو فرشتوں کے وجود کی خبر دی۔ یہ خبر انھیں اس لیے دی گئی تھی کہ وہ خدا کے عظمت وجلال کو محسوس کریں اور پوری طرح اس کی عبادت میں لگ جائیں۔ مگر شیطان نے عجیب وغریب طورپر لوگوں کو سکھایا کہ براہِ راست خدا کا تقرب حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ فرشتوں کی عبادت کریں اور ان کے ذریعے سے خدا کا تقرب حاصل کریں۔ چنانچہ ساری دنیا میں فرشتوں کے بت بنا کر ان کی عبادت شروع کردی گئی۔ دیوی دیوتاؤں کا عقیدہ بھی دراصل فرشتوں ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جو فرشتہ بارش پر مقرر تھا اس کو بارش کا دیوتا سمجھ لیاگیا۔ جو فرشتہ ہوا پر مقرر تھا اس کو ہوا کا دیوتا سمجھ لیاگیا، وغیرہ۔
فرشتے آخرت میں ایسے عبادت گزاروں سے برأت ظاہر کریں گے۔ آخرت میں ان کو نہ خدا کی مدد حاصل ہوگی اور نہ فرشتوں کی۔ وہ ہمیشہ کےلیے بے یارومددگار ہوکر رہ جائیں گے۔