Tazkirul Quran (Urdu) · Sheba (Saba’)

Tazkirul Quran, Qur’an 34:51–54

Sheba (Saba’)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

موجودہ دنیا میں آدمی حق کا انکار کرتا ہے تو فوراً اس کا انجام سامنے نہیں آتا۔ یہ صورت حال اس کو انکار حق کے معاملہ میں ڈھیٹ بنا دیتی ہے۔ وہ حق کی دعوت کو سنجیدہ توجہ کے قابل نہیں سمجھتا۔ وہ حقارت آمیز الفاظ میں اس کا ذکر کرتاہے۔ وہ بے پروائی کے ساتھ اس کو رد کردیتاہے۔ وہ اس پر اس طرح غیر ذمہ دارانہ انداز میں تبصرہ کرتاہے جیسے کہ وہ کسی لحاظ کا مستحق ہی نہیں۔

مگر جب دنیا کا موجودہ نظام ختم ہوگا تو اچانک سارا معاملہ بالکل بدل جائے گا۔ اب آدمی کو نظر آئے گا کہ وہی چیزسب سے زیادہ اہم تھی جس کو وہ سب سے زیادہ نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ یہ دیکھ کر اس کی ساری اکڑ ختم ہوجائے گی۔ وہ اس حق کا والہانہ اعتراف کرنے لگے گا جس کو وہ دنیا میں کسی توجہ کے لائق نہیں سمجھتا تھا۔ مگر اب وقت نکل چکا ہوگا۔ اس سے کہا جائے گا کہ اعتراف کی قیمت عالم غیب میں تھی، عالم شہود میں اعتراف کی کوئی قیمت نہیں۔

’’شک مریب‘‘ کا مطلب ہے تردد میں ڈالنے والا شک۔ یہ منکرین کی نفسیاتی حالت کی تصویر ہے۔دنیا میں جو حق ان کے سامنے پیش کیا جارہا تھا وہ زبان وبیان کے اعتبار سے اتنا طاقت ور تھا کہ وہ اپنے آپ کو اس سے بے بس پاتے تھے کہ دلیل کے ذریعہ اس کو رد کرسکیں۔ مگر یہ حق چونکہ ان کے ذہنی سانچہ کے خلاف تھا اس لیے وہ اس کو قبول کرنے پر بھی آمادہ نہ ہوسکے۔ اس دو طرفہ صورت حال نے انھیں ایک قسم کے اندرونی خلجان میں مبتلا رکھا۔ یہاں تک کہ موت کے فرشتہ نے آکر وہ پردہ ان کی آنکھ سے ہٹا دیا جس کو انھیں خود اپنے ہاتھ سے ہٹانا تھا۔ مگر وہ اس کو ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page