Tazkirul Quran (Urdu) · The Creator (Fatir)

Tazkirul Quran, Qur’an 35:9–10

The Creator (Fatir)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

موجودہ دنیا آخرت کی تمثیل ہے۔ بارش ایک معلوم واقعہ کی صورت میں نامعلوم واقعہ کو ممثل کررہی ہے۔بارش کیا ہے۔ بارش پوری کائنات کے ایک متحدہ عمل کا نتیجہ ہے۔ سورج اور ہوا اور سمندر اور کشش اور دوسرے بہت سے عالمی اسباب کامل ہم آہنگی کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ اس طرح وہ بارش ظہور میں آتی ہے جو خشک زمین پر زندگی پیدا کردے۔

بارش کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ کائنات کا ناظم پوری کائنات پر کامل اختیار رکھتا ہے۔ وہ ایک واقعہ کو اپنے منصوبہ کے تحت ظہور میں لاتا ہے۔ اور پھر اس کے مٹنے کے بعد اس کو دوبارہ ظاہر کردیتا ہے، خواہ اس کودوبارہ ظاہر کرنے کےلیے پوری کائنات کو متحرک کرنا پڑے۔

مُردہ زمین کو دوبارہ سرسبز کرنا، اور مردہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنا، دونوں یکساں درجہ کے واقعات ہیں۔ پھر جب پہلا واقعہ ممکن ثابت ہوجائے تو اس کے بعد اسی کے مماثل دوسرے واقعہ کا ممکن ہونا اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے۔

موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، اس لیے یہاں عزت وقتی طورپر ایک غیر مستحق کو بھی مل جاتی ہے۔ مگر آخرت میں ساری عزت ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو واقعی اس کا استحقاق رکھتے ہوں۔ اس استحقاق کا معیار کلمہ طیب اور عمل صالح ہے۔ یعنی اللہ کو اس طرح پانا کہ وہی آدمی کی یاد بن جائے جس میں وہ جئے۔ وہی اس کا عمل بن جائے جس میں وہ اپنی قوتیں صرف کرے۔ جو لوگ اس طرح اپنی زندگی کی تعمیر کریں خدا ان کا مددگار بن جاتاہے اور جن لوگوں کا خدا مدد گار بن جائے انھیں زیر کرنے والا کوئی نہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page