Tazkirul Quran (Urdu) · Sad (Sad)

Tazkirul Quran, Qur’an 38:9–16

Sad (Sad)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

خدا کی رحمت ہدایت اس طرح تقسیم نہیں ہوتی کہ جس شخص کو دنیوی عظمت ملی ہوئی ہو اسی کو خدا کی ہدایت بھی دے دی جائے۔ اگر دنیوی عظمت لوگوں کو خدا کے یہاں عظیم بنانے والی ہوتی تو ایسے لوگوں کےلیے ممکن ہوتاکہ وہ جس شخص کو چاہیں خدا کی رحمت پہنچائیں اور جس سے چاہیں اسے روک دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا اپنی رحمت کی تقسیم خود اپنے معیار پر کرتاہے، نہ کہ ظاہر پرست انسانوں کے بنائے ہوئے معیار پر۔

پیغمبر کا انکار کرنے والے کہتے کہ جس خدائی عذاب سے تم ہم کو ڈرارہے ہو اس خدائی عذاب کو لے آؤ۔ یہ جرأت ان کے اندر اس لیے پیدا ہوتی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر خدا کا عذاب آنے والا ہی نہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ جن بتوں کے بل پر تم اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہو، اسی قسم کے بتوں کے بل پر پچھلی قوموں نے بھی اپنے کو محفوظ سمجھا اور اپنے رسولوں کے ساتھ سرکشی کی۔ مگر وہ سب کی سب ہلاک کردی گئیں۔ پھر تم آخر کس طرح بچ جاؤ گے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page