Tazkirul Quran (Urdu) · The Crowds (Al-Zumar)

Tazkirul Quran, Qur’an 39:17–18

The Crowds (Al-Zumar)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

موجودہ دنیا فتنہ کی دنیا ہے۔ یہاں حقیقتیں اپنی آخری بے نقاب شکل میں ظاہر نہیں ہوئی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر بات کو غلط معنی پہنایا جاسکتاہے۔ شیطان اسی امکان کو استعمال کرکے لوگوں کو راہ راست سے بھٹکاتا ہے۔جب بھی کوئی حق سامنے آتا ہے تو شیطان اس کو غلط معنی پہنا کر لوگوں کے ذہن کو پھیرنے کی کوشش کرتاہے۔ وہ قول کے احسن پہلو سے ہٹا کر قول کے غیر احسن پہلو کو لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ آدمی کو اس عقل کا ثبوت دینا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرے۔ وہ شیطانی فریب کاپردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ آدمی کان سے نہیں ، اصل میں دماغ سے سنتا ہے۔آدمی جب کسی کی بات سنے یا کسی کی زبان سے کوئی کلمہ نکل جائے تو صرف لفظ نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ حسنِ ظن سے کام لیتے ہوئے یہ دیکھنا چاہیے کہ واقعی اس سے کیا مراد ہے۔ جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دیں وہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو خدائی سچائی کو پائیں گے اور جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دینے میں ناکام رہیں ، ان کےلیے اس دنیا میں اس کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں کہ وہ قول کے غیر احسن پہلوؤں میں الجھے رہیں اور خدا کے یہاں شیطان کے پرستار کی حیثیت سے اٹھائے جائیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page