Tazkirul Quran, Qur’an 4:142–147
Women (Al-Nisa’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے کیے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے لیے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے لیے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے لیے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے لیے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے لیے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔
اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس لیے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔