Tazkirul Quran (Urdu) · The Forgiver (Ghafir)
Tazkirul Quran, Qur’an 40:36–37
The Forgiver (Ghafir)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے جو بات کہی وہ کوئی سنجیدہ بات نہیں تھی بلکہ محض ایک وقتی تدبیر (کید) کے طور پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ رجل مومن کی معقول اور مدلّل تقریر سے دربار کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، اس لیے اس نے چاہا کہ ایک شوشہ کی بات نکالے تاکہ حضرت موسیٰ کی دعوت سنجیدہ بحث کا موضوع نہ بنے بلکہ مذاق کا موضوع بن کر رہ جائے۔
’’بدعملی کا خوشنما بننا‘‘ یہ ہے کہ آدمی کچھ خوش نما الفاظ بول کر حق کو رد کردے۔ یہی آدمی کی گمراہی کی اصل جڑ ہے۔ یعنی حقیقی دلائل کے مقابلہ میں شوشہ کی بات کو اہمیت دینا، کھلی بے راہ روی کو جھوٹی توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرنا وغیرہ۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جو حق محکم دلیل کے اوپر کھڑا ہوا ہو اس کو بےبنیاد شوشے نکال کر مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔