Tazkirul Quran (Urdu) · The Sand Dunes (Al-Ahqaf)

Tazkirul Quran, Qur’an 46:35

The Sand Dunes (Al-Ahqaf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

حق کی دعوت دینے والے کو ہمیشہ صبر کی زمین پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ عجلت سے بچتے ہوئے صابرانہ عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی جذباتی انداز میں دوڑ پڑنے کے بجائے سوچ سمجھ کر عمل کرے، اور ایک ایک قدم پختہ کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ دعوتی میدان میں صبر کرنادر اصل اس کا نام ہے کہ مدعو کی ایذا رسانیوں کو داعی یک طرفہ طور پر نظر انداز کرے۔ وہ مدعو کے ضد اور انکار کے باوجود یک طرفہ خیرخواہی کے ساتھ اس کومسلسل دعوت پہنچاتا رہے۔ داعی اپنے مدعو کا ہرحال میں خیر خواہ بنا رہے۔ خواہ مدعو کی طرف سے اس کو کتنی ہی زیادہ ناخوش گواریوں کا تجربہ کیوں نہ ہو رہا ہو۔ یہ یک طرفہ صبر اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر مدعو کے اوپر خدا کی حجت تمام نہیں ہوتی۔

خدا کے تمام پیغمبروں نے ہر زمانہ میں اسی طرح صبر و استقامت کے ساتھ دعوت حق کا کام کیا ہے۔ آئندہ بھی پیغمبروں کی نیابت میں جو لوگ دعوت حق کا کام کریں ان کو اسی نمونہ پر دعوت کا کام کرنا ہے۔ خدا کے یہاں داعی کا مقام صرف انہیں لوگوں کے لیے مقدر ہے جو یک طرفہ برداشت کا حوصلہ دکھا سکیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page