Tazkirul Quran (Urdu) · The Apartments (Al-Hujurat)

Tazkirul Quran, Qur’an 49:12

The Apartments (Al-Hujurat)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

سنجیدگی اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ وقتی تجربہ کی بنا پر کبھی بھی کلی رائے قائم نہ کی جائے۔ اس قسم کی رائے کوشریعت میں سوءِظن کہا گیا ہے، یعنی بدگمانی۔انسان کے بارے میں بدگمانی کے تحت رائے قائم کرنا بے حد سنگین ہے۔ کیوں کہ اس میں اخلاقی پہلوشامل ہے اور وہ آدمی کوگناہ کے درجہ تک پہنچا سکتا ہے ۔

ایک آدمی کسی شخص کے بارے میں بدگمان ہوجائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ اس کی خوبیوں سے زیادہ وہ اس کے عیوب تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔

اکثر سماجی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اس معاملہ میں چوکنا رہے۔ وہ بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔

آپ کو کسی سے بدگمانی ہوجائے تو آپ اس سے مل کر گفتگو کرسکتے ہیں ۔ مگر یہ سخت غیر اخلاقی فعل ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی آدمی سے اس قسم کی غلطیاں ہوسکتی ہیں ۔ لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والا ہے تو وہ اپنی غلطی پر ڈھیٹ نہیں ہوگا۔ اس کا خوف خدا اس کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہ کرے گا، وہ اپنی روش کو چھوڑ کر اللہ سے معافی کا طالب بن جائے گا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page