Tazkirul Quran, Qur’an 49:9–10
The Apartments (Al-Hujurat)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
مسلمان آپس میں کس طرح رہیں، اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ اس طرح رہیں جس طرح بھائی بھائی آپس میں رہتے ہیں۔ دینی رشتہ خونی رشتہ سے کسی طرح کم نہیں۔ اگر دو مسلمان آپس میں لڑجائیں تو بقیہ مسلمانوں کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ان کے درمیان مزید آگ بھڑکائیں۔ بلکہ انہیں بھائیوں والے جذبے کے تحت دونوں کے درمیان مصالحت کے لیے اٹھ جانا چاہیے۔
دو مسلمان جب آپس میں لڑیں تو ایک صورت یہ ہے کہ بقیہ مسلمان غیر جانبدار بن جائیں۔ یا اگر وہ دخل دیں تو اس طرح کہ خاندانی اور گروہی عصبیت کے تحت ’’اپنوں‘‘ سے مل کر ’’غیروں‘‘سے لڑنے لگیں۔ یہ تمام طریقے اسلام کے خلاف ہیں۔ صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اصل معاملہ کی تحقیق کی جائے اور جو شخص حق پر ہو اس کا ساتھ دیا جائے اور جو شخص ناحق پر ہو اس کو مجبور کیا جائے کہ وہ معاملہ کے منصفانہ فیصلہ پر راضی ہو۔
اللہ سے ڈرنے والا آدمی کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ دوسروں کو لڑتے ہوئے دیکھ کر اس سے لذت لے۔ وہ ایسے منظر کو دیکھ کر تڑپے گا۔ اس کا مزاج اسے مجبور کرے گا کہ وہ دونوں کے درمیان تعلقات کو درست کرانے کی کوشش کرے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ پر ایمان اللہ کی رحمتوں کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جاتا ہے۔