Tazkirul Quran (Urdu) · The Table (Al-Ma’idah)

Tazkirul Quran, Qur’an 5:3

The Table (Al-Ma’idah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

بعض جانور اپنے طبی اور اخلاقی نقصانات کی وجہ اس قابل نہیں کہ انسان ان کو اپنی خوراک بنائے۔ خنزیر کو اللہ تعالیٰ نے اسی سبب سے حرام قرار دیا ۔ اسی طرح جانور کے جسم میں گوشت کے علاوہ کئی دوسری چیزیں ہوتی ہیں جو انسانی خوراک بننے کے قابل نہیں ۔ انھیں میں سے خون بھی ہے۔ چنانچہ اسلام میں جانور کو ذبح کرنے کی ایک خاص صورت مقرر کی گئی ہے تاکہ جانور کے جسم کا خون پوری طرح بہہ کر نکل جائے۔ ذبح کے سوا جانور کو مارنے کے جو طریقے ہیں ان میں خون جانور کے گوشت میں جذب ہو کر رہ جاتا ہے، وہ پوری طرح اس سے الگ نہیں ہوتا۔ اسی سبب سے شریعت میں مردار کی تمام قسموں کو بھی حرام کردیاگیا۔ کیوں کہ مردار جانور کا خون فوراً ہی اس کے گوشت میں جذب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایسا گوشت بھی حرام کردیا گیا جس میں کسی طرح مشرکانہ عقیدہ کی آمیزش ہوجائے۔ مثلاً غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا یا غیر اللہ کے تقرب کی خاطر جانور کو قربان کرنا۔ تاہم اللہ نے اپنی رحمت خاص سے یہ گنجائش دے دی کہ کسی کو بھوک کی ایسی مجبوری پیش آجائے کہ اس کو موت یا حرام خوراک میں سے ایک کو لینا ہو تو وہ موت کے مقابلہ میں حرام خوراک کو اختیار کرے۔

اسلام سے پہلے جو دور گزرا ہے اس میں مسلسل طور پر توحید کی تحریک خشیت انسانی (human fear) کے مسئلہ سے دوچار رہی ہے۔ یہاں اس بات کا اعلان ہے کہ خشیت انسانی کے دور کا خاتمہ ہوگیا ، اب دنیا خشیت ربانی کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب نے ہمیشہ کے لیے اس امکان کو ختم کردیا ہے کہ زمین کا کوئی حصہ اہل اسلام کے لیے دوبارہ دار الخوف بن جائے۔ قرآن کو ماننے والی امت کو خدا نے اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم کردیا ہے کہ وہ اپنی امکانی قوت کے اعتبار سے ہر بیرونی خطرہ کی زد سے باہر جاچکی ہے۔ اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے، نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔

’’آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے کامل کردیا‘‘، یعنی تم کو جو احکام دیے جانے تھے وہ سب دے دیے گئے۔ تمھارے لیے جو کچھ بھیجنا مقدر کیا گیا وہ سب بھیجا جاچکا۔ یہاں علی الاطلاق دین کے کامل کیے جانے کاذکر نہیں ہے بلکہ امت محمد ی پر جو قرآن نازل ہونا شروع ہوا تھا اس کے پورے ہونے کا اعلان ہے۔ یہ نزول کی تکمیل کا ذکر ہے، نہ کہ دین کی تکمیل کا۔ اسی لیے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ ’’آج میں نے دین کو کامل کردیا‘‘ بلکہ یہ فرمایا کہ ’’آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے کامل کردیا‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا دین ہر زمانہ میں اپنی کامل صورت میں انسان کو دیاگیا ہے۔ خدا نے کبھی ناقص دین انسان کے پاس نہیں بھیجا۔

دوسرے الفاظ میں ، اکمالِ دین یا تکمیلِ دین (completion of religion) سے مراد احکامِ دین کی فہرست کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اُس سے یہ مرادہے کہ شریعت کی کوئی ارتقائی ترتیب تھی جوپچھلے پیغمبروں کے ذریعہ شروع ہوئی، اور 10 ہجری میں پیغمبر اسلام کے ذریعہ یہ ارتقائی ترتیب مکمل ہوگئی۔ اِس سے مراد صرف آیاتِ قرآنی کے نزول کی تکمیل ہے۔ اِس سے مراد عملاً وہی چیز ہے جس کو قرآن کی دوسری سورہ میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔ اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اب اسلام حکومتی معنوں میں غالب ہوگیا ہے۔یہاں اکمال دین سے مراد استحکام دین ہے۔یعنی اسلام کی راہ کے موانع (obstacles) ختم ہوگئے۔ خود آیت کے الفاظ سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے— آج منکرین تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے، پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔دوسرے الفاظ میں ،اب خدا کے دین کے حق میں ایسے اسباب جمع ہوگئے ہیں جو دین اور اہل دین کو اِس سے محفوظ کردیتے ہیں کہ وہ ماضی کی طرح انسانی رکاوٹوں اور مذہبی جبرکا شکار بنیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page