Tazkirul Quran, Qur’an 5:78–81
The Table (Al-Ma’idah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔
بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں کوئی نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3)۔وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب کہ وہ خدا کی باتوں کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہیں(زبور50:16-17)۔حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصہ دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔
یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف کرنے کا سوال ہوتا، جب ایک کم زور پر رحم کا تقاضا ہوتا، جب اپنے نفس کو کچل کر الله کے حکم کو ماننے کی ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز ہے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔