Tazkirul Quran (Urdu) · The Setting Star (Al-Najm)

Tazkirul Quran, Qur’an 53:26–30

The Setting Star (Al-Najm)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں ۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔

جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں دیتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔

’’پس تم ایسے شخص سے اعراض کرو جو ہماری نصیحت سے منہ موڑے‘‘۔ یہ نہیں فرمایا کہ قاتل عمن تولی (تم ایسے شخص سے جنگ کرو جو ہماری نصیحت سے منہ موڑے) یا حارب عمن تولی (تم ایسے شخص سے لڑائی کرو جو ہماری نصیحت سے منہ موڑے)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا بنیادی اصول ٹکراؤ (conflict)نہیں ہے، بلکہ اعراض (avoidance) ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page