Tazkirul Quran (Urdu) · The Moon (Al-Qamar)

Tazkirul Quran, Qur’an 54:23–32

The Moon (Al-Qamar)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔

قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی۔ شاہ عبدالقادر صاحب نے آیت کا ترجمہ کیا ہے ’’ ہم نے آسان کیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا‘‘۔ مطلب یہ کہ قرآن میں دینی حقائق کو مدلل اور قابل فہم انسانی زبان میں پیش کر دیا گیا ہے۔ پھر کوئی ہے جو اس پر دھیان دے اور اس سے اپنے لیے نصیحت اور اصلاح کا سامان حاصل کرے ۔ اس آیت میں کتاب الہی پر غور و فکر کے لیے ابھارا گیا ہے۔ قرآن کے اندر آدمی کے قلب و دماغ کے لیے جور بانی غذا رکھی گئی ہے ، اس میں سے اپنا حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page