Tazkirul Quran, Qur’an 54:9–17
The Moon (Al-Qamar)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے اکابراپنی جھوٹی عظمتوں میں گم تھے۔ وہ حضرت نوح علیہ السلام کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہ ہو سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو اکہ وہ عذاب الہیٰ کی زدمیں آگئے۔ ان پر یہ عذاب ہولناک سیلاب کی صورت میں آیا۔ ساری قوم اپنی آبادیوں سمیت میں غرق ہو گئی۔ البتہ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھی خدا کے حکم سے ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ یہ کشتی چلتی ہوئی کوہ ارارات پر جا کر ٹھہر گئی۔
ارارات ترکی میں واقع ہے۔ وہ وہاں کا سب سے اونچا پہاڑ ہے ۔ اس کی چوٹی ۱۶۸۵۳ فٹ اونچی ہے۔بعض ہوا بازوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ارارات کی برفا نی چوٹی کے اوپر سے اڑتے ہوئے وہاں کشتی جیسی ایک چیز برف میں دھنسی ہوئی دیکھی ہے۔ اگر یہ صحیح ہوتو اس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون موسیٰ کی لاش جس طرح اہرام کے اندردفن تھی اور انیسویں صدی کے آخر میں بر آمد ہو کر خدا کی نشانی ( یونس، 10:92) بن گئی۔ اسی طرح شاید کسی وقت کشتی نوح بھی دریافت ہواور وہ لوگو ں کے لیے خدا کی نشانی بن جائے۔