Tazkirul Quran (Urdu) · The Inevitable Event (Al-Waqi‘ah)

Tazkirul Quran, Qur’an 56:8–26

The Inevitable Event (Al-Waqi‘ah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہاں اہل جنت کو دو بڑے طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک، مقربین خاص۔ دوسرے، عام انعام یافتہ لوگ۔یہ فرق نوعیتِ ایمان کے اعتبار سے ہے، نہ کہ زمانہ کے اعتبار سے۔اصل یہ ہے کہ پیغمبر کے دور میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں ، ان کا ایمان شعوری دریافت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ میرٹ (merit) کی بنیاد پر اسلام کو قبول کرتے ہیں ۔ اس کے مقابلےبعد والوں کی اکثریت کا اسلام نسلی اسلام ہوتا ہے۔ اس لیے قیامت کے دن مقربین لوگوں کی تعداد پہلے لوگوں میں زیادہ ہوگی، اور بعد کے لوگوں میں کم ہوگی۔

السابقون وہ لوگ ہیں جو حق کے سامنے آتے ہی شعوری دریافت کے تحت فوراً اس کو قبول کرلیں ۔ وہ بلاتاخیر اپنے آپ کو حق کے حوالے کردیں ۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن کون لوگ اللہ کے سایہ میں سب سے پہلے جگہ پائیں گے۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ کہ جب ان کے سامنے حق آیا تو انہوں نے اس کو قبول کرلیا۔ اور جب ان سے حق مانگا گیا تو انہوں نے اس کو دیا۔ اور دوسروں کے معاملہ میں انہوں نے وہی فیصلہ کیا جو فیصلہ ان کا خود اپنے بارے میں تھا( الَّذِينَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ، وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ، وَحَكَمُوا لِلنَّاسِ كَحُكْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 24379۔

دعوت کے دور اول میں جو افراد آگے بڑھ کر اسلام قبول کرتے ہیں ان کے لیے اسلام ایک دریافت ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان کی جو نسلیں ہیں وہ اسلام کو وراثت کے طور پر پاتی ہیں ۔ دریافت اور وراثت کا یہی فرق ہے جو پہلے گروہ کا مرتبہ دوسرے گروہ سے بلند کردیتا ہے۔ قدرتی طور پر دوسرا گروہ تعداد میں زیادہ ہوتا ہے اور پہلا گروہ کم۔ آخرت میں دوسرے گروہ کے لیے اگر عام انعامات ہیں تو پہلے گروہ کے لیے شاہانہ انعامات۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page