Tazkirul Quran, Qur’an 60:1–3
She Who is Tested (Al-Mumtahanah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں ۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں ۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ کو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔
جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں ۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں ۔
سورہ فصلت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک شخص اگر بظاہر تمہارا دشمن ہو تب بھی تم اس کے ساتھ احسن طریق پر معاملہ کرو، عین ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے (41:34)۔ اسی طرح سورہ الممتحنہ میں ارشاد ہوا ہے کہ جن لوگوں نے تم سے قتال نہیں کیا ان سے تم کو بھلائی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ مگر اللہ اس سے روکتا ہے کہ تم ان لوگوں سے بھلائی کے ساتھ معاملہ کرو جو تمہارے ساتھ قتال کر رہے ہیں (60:8)۔
ان دونوں آیتوں کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن عدو(enemy) اور مُقاتل (combatant) کے درمیان فرق کرتا ہے۔ قرآن کا حکم یہ ہے کہ بظاہر اگر کوئی شخص یا گروہ تمہارا دشمن ہو تب بھی تم کواس کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا چاہیے تا کہ دعوت کا عمل معتدل انداز میں جاری رہے۔ ظاہری دشمنی کو میل جول (interaction) میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے کیوں کہ میل جول سے دعوت کا عمل جاری رہتا ہے اور دعوت کا عمل دشمن کو بھی دوست بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ البتہ مُحارب یا مُقاتل (combatant) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یعنی وہ لوگ جو عملاً یک طرفہ طورپر اہل ایمان کے خلاف جنگ چھیڑ دیں ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ ہنگامی اصول یا جنگی اخلاقیات کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ حتی کہ ان کے ساتھ اس وقت تک قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے جب تک وہ جنگ سے باز نہ آئیں ۔ اسی اصول کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔
یہ ایک بے حد اہم فرق ہے جس کو عملی زندگی میں اختیار کرنا ضروری ہے۔ اہل ایمان اگر اس فرق کو نہ سمجھیں تو وہ دشمن سے بھی مقاتل جیسا معاملہ کرنے لگیں گے، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلام کے دعوتی مصالح مجروح ہوں گے اور دعوت و تبلیغ کا مطلوب عمل رک جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ جو شخص یا گروہ بالفعل مسلح جنگ چھیڑدے اس کے مقابلہ میں تو سخت احتیاط کا برتاؤ کیاجائے گا۔ حتی کہ معتدل تعلق سے بھی پرہیز کیاجائے گا۔ کیوں کہ یہ اندیشہ ہے کہ اس کے ذریعہ مُحارب فریق اہل ایمان کے جنگی راز معلوم کرلے۔ مگر جہاں تک عام انسان کا تعلق ہے تو ظاہری دوستی یا ظاہری دشمنی کا لحاظ کیے بغیر ہر ایک سے یکساں انسانی تعلق قائم رکھا جائے گا۔ تاکہ اسلام کا دعوتی عمل غیر منقطع طورپر جاری رہے، وہ کسی حال میں رکنے نہ پائے۔