Tazkirul Quran (Urdu) · Ranks (Al-Saff)

Tazkirul Quran, Qur’an 61:6–9

Ranks (Al-Saff)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں ۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبرآخرالزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب آپ آئے تو یہود اور نصاریٰ دونوں نے آپ کا انکار کردیا۔ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ کھلی کھلی حقیقتوں کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا ۔

اظہار دین کی آیت قرآن میں تین مقامات پر آئی ہے سورہ التوبہ (9:33)، سورہ الفتح (48:28)، سورہ الصف (61:9)۔ اس سے مراد فکری غلبہ ہے، نہ کہ اسلام کے تمام قوانین کو بزور نافذ کرنا۔کیوں کہ آیت میں اظہار کا لفظ ہے، نہ کہ نفاذ کا۔ یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جتنے غیر موحدانہ عقائد دنیا میں ہیں ان کو نظریاتی طور پر زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں ۔اس لیےتینوں مقامات پر آیت کے الفاظ یہ ہیں لِيُظْهِرَهُ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِ( تاکہ وہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے)۔یہ الفاظ نہیں ہیں  لیظہرہ علی الناس (لوگوں کے اوپر غالب کردے)۔ اور یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ حکومتی قوانین انسانوں پر نافذ ہوتے ہیں ، نہ کہ دین یا ادیان پر۔ خدا کا یہ منصوبہ تھا کہ ’’مشرکین‘‘ نے خدا اور رسول کے نام پر جو خودساختہ مذہب بنا رکھے ہیں ان کو نظریاتی طور پر مغلوب کرکے دین اسلام کو فکری اور تاریخی حیثیت سے غالب کردیا جائے۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔یہ کام پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ مکمل طور پر انجام پایا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page