Tazkirul Quran (Urdu) · The Kingdom (Al-Mulk)

Tazkirul Quran, Qur’an 67:19–21

The Kingdom (Al-Mulk)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔حضرت ابوذرغفاری کہتے ہیں کہ کوئی چڑیابھی اگر فضا میں اپنے پروں کو پھڑپھڑاتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے(وَمَا يُقَلِّبُ ‌طَائِرٌ ‌جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ، إِلَّا ذَكَرْنَا مِنْهُ عِلْمًا) الزہد لوکیع بن الجراح، حدیث نمبر 522۔بلاشبہ چڑیا کا فضا میں اڑنا قدرت الٰہی کی ایک عظیم نشانی ہے۔ قدیم زمانہ میں قدرت الہی کی اس نشانی (sign) کو صرف پراسرار عقیدہ کے طور پر مانا جاتا تھا، مگر آج اس کو ایک سائنسی حقیقت کے طورپرسمجھا جاسکتا ہے۔ اب سائنسی دور میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج جب ایک ہوائی جہازفضا میں اڑکر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتا ہے تو اس کے لیے ہوائی جہاز سے باہر ایک بہت بڑا انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ ٹیک آف (take off) کے مقام پر بھی، اور لینڈنگ (landing)کے مقام پر بھی۔اِس انفراسٹرکچر کے بغیر کوئی جہاز ایک مقام سے دوسرے مقام پر نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح چڑیا کو فضا میں اڑنے کے لیےایک خارجی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ رب العالمین کا قائم کیا ہوا کائناتی انفراسٹرکچر ہے ۔اس کے بغیرچڑیوں کے لیے ایک جگہ سے اڑنا اور فضا میں تیرکر دوسری جگہ اتر نا ممکن نہیں ۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page