Tazkirul Quran, Qur’an 7:158–159
The Heights (Al-A‘raf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
’’کہو میں سب انسانوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے تمام پیغمبر قومی پیغمبر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین اقوامی پیغمبر ہیں۔ یہ بات بطور تقابل نہیں کہی گئی ہے بلکہ بطور واقعہ کہی گئی ہے۔
اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی دو بعثتیں ہیں۔ ایک براہِ راست، دوسری بواسطۂ امت۔ آپ کی براہِ راست بعثت عرب کے لیے تھی (الانعام، 6:92 ) اور آپ کی بالواسطہ بعثت سارے عالم کے لیے ہے (الحج،22:78)۔ حکماً یہی نوعیت خدا کے تمام پیغمبروں کی تھی۔ مگر دوسرے پیغمبروں کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہ سکا۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہوا کہ وہ تمام عالم کے لیے نذیر وبشیر بنتے۔ آج مسیحیت کی تبلیغ سارے عالم میں بہت بڑے پیمانہ پر ہورہی ہے۔ اس کے باوجود حضرت مسیح کی نبوت صرف فلسطین تک محدود ہوکر رہ گئی۔ کیوںکہ حضرت مسیح کے بعد ان کی تعلیمات اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہیں۔ آج مسیحیت کے نام سے جو دین لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ حقیقۃً سینٹ پال کا دین ہے، نہ کہ مسیح کا دین۔ گویا نبیوں کے وسعت کار میں جو فرق ہے وہ فرق باعتبار واقعہ ہے، نہ کہ باعتبار تفویض۔
پیغمبر عربی کے متعلق بائبل میں یہ پیشین گوئی ہے کہ زمین کے سب قبیلے اس کے وسیلے سے برکت پائیں گے (پیدائش،12:1-3)۔ سب قوموں تک آپ کی برکت پہنچنا اس لیے ممکن ہوسکا کہ آپ کا لایا ہوا دین محفوظ ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کا دین محفوظ نہیں۔ اس لیے بظاہر اس کی آواز سب تک پہنچ کر بھی اس کی برکت سب تک نہ پہنچ سکی۔
عرب میں یہودی قبائل آباد تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو یہ فخر تھا کہ ان کے پاس خدا کی مقدس کتاب ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنے سے باہر کسی سچائی کو ماننے کے لیے سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ ان کا یہ احساس کہ وہ سب سے بڑی سچائی کو لیے ہوئے ہیں ان کے لیے کسی دوسرے کی طرف سے آنے والی سچائی کو قبول کرنے میں مانع ہوجاتاہے۔ یہی حال یہود کا ہوا۔ ان کی بہت بڑی اکثریت ضد اور تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی۔ صرف چند لوگ (عبد اللہ بن سلّام وغیرہ) ایسے نکلے جنھوں نے کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھا۔ انھوں نے اپنی دنیوی عزت کی پروا کیے بغیر اس کی صداقت کا اعلان کیا اور اپنی دنیوی زندگی کو اس کے حوالے کردیا۔
’’رسول ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات (ارشادات) پر‘‘۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ فلسفیوں کے خدا اور پیغمبر کے خدا میں کیا فرق ہے۔ فلسفی کا خدا ایک مجرد روح ہے۔ اس کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے کائنات میں قوت کشش کو ماننا۔ قوت کشش نہ بولتی اور نہ حکم دیتی ہے۔ مگر پیغمبر کا خداایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ وہ انسانوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو حکم دیتاہے اور اس حکم کے ماننے یا نہ ماننے پر ہر ایک کے لیے انعام یا سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔