Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:179–183

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے لیے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے لیے کوئی سچائی سچائی نہیں۔

خدا کے بارے میں انسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کو مانتے ہوئے اپنے ذہن میں خدا کی غلط تصویر بنا لیتا ہے۔ وہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کردیتا ہے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔

خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page