Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:19–21

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

جنت اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ آدم اور ان کی بیوی کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ اس میں طرح طرح کی چیزیں تھیں اور خدا کی طرف سے ان کو آزادی تھی کہ ان کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔بے شمار جائز چیزوں کے درمیان صرف ایک چیز کے استعمال سے روک دیاگیا تھا۔ شیطان نے اسی ممنوعہ مقام سے ان پر حملہ کیا۔ اس نے وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ سکھایا کہ جس چیز سے تمھیں روکا گیا ہے وہی جنت کی اہم ترین چیز ہے۔ اسی میں تقدس اور ابدیت کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ آدم اور ان کی بیوی ابلیس کی مسلسل تلقین سے متاثر ہوگئے۔اور بالآخر ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ مگر جب انھوں نے ایسا کیا تو نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ ان کی اس خلاف ورزی نے خدا کا لباسِ حفاظت ان کے جسم سے اتار دیا۔ وہ اس دنیا میں بالکل بے یارومددگار ہو کر رہ گئے جہاں اس سے پہلے ان کو ہرطرح کی سہولت اور حفاظت حاصل تھی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا وہ خاص حربہ کیا ہے جس سے وہ انسان کو بہکا کر خدا کی رحمت ونصرت سے دور کردیتا ہے۔ وہ ہے — حلال رزق کے پھیلے ہوئے میدان کو آدمی کی نظر میں کمتر کرکے دکھانا اور جو چند چیزیں حرام ہیں ان کو خوب صورت طورپر پیش کرکے یقین دلانا کہ تمام بڑے بڑے فائدوں اور مصلحتوں کا راز بس انھیں چند چیزوں میں چھپا ہوا ہے۔

شیطان اپنا یہ کام ہر ایک کے ساتھ اس کے اپنے ذوق اور حالات کے اعتبار سے کرتا ہے ۔ کسی کو تمام قیمتی غذاؤں سے بے رغبت کرکے یہ سکھاتا ہے کہ شاندار تندرستی حاصل کرنا چاہتے ہو تو شراب پیو۔ کہیں لاکھوں بے روزگار مرد کام کرنے کے لیے موجود ہوں گے مگر وہ ترغیب دے گا کہ اگر ترقی کی منزل تک جلد پہنچنا چاہتے ہو تو عورتوں کو گھر سے باہر لاکر انھیں مختلف تمدنی شعبوں میں سرگرم کردو۔ کسی کے پاس اپنے مخالف کو زیر کرنے کا یہ قابل عمل طریقہ موجود ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو مستحکم بنائے مگر شیطان اس کے کان میں ڈالے گا کہ تمھارے لیے اپنے مخالف کو شکست دینے کا سب سے زیادہ کار گر طریقہ یہ ہے کہ اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کردو۔ کسی کے لیے ’’اپنی تعمیر آپ‘‘ کے میدان میں کام کرنے کے لیے بے شمار مواقع کھلے ہوئے ہوں گے مگر وہ سکھائے گا کہ دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبہ کا طوفان برپا کرنا اپنے کو کامیابی کی طرف لے جانے کا سب سے زیادہ قریبی راستہ ہے۔ کسی کے سامنے حکومت وقت سے تصادم کیے بغیر بے شمار دینی کام کرنے کے مواقع موجود ہوں گے مگر وہ اس کو اس غلط فہمی میں ڈالے گا کہ غیر اسلامی حکمرانوں کو اگر کسی نہ کسی طرح پھانسی پر چڑھادیا جائے یا ان کو گولی مار کر ختم کردیا جائے تو اس کے بعد آناً فاناً اسلام کا مکمل نظام سارے ملک میں قائم ہو جائے گا، وغیرہ۔

آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page