Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:1–9

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

خدا کی کتاب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نصیحت ہے۔ مگر وہ عملاً صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لیے نصیحت بنتی ہے، جو اپنی فطری صلاحیت کو زندہ کیے ہوئے ہوں۔ بقیہ لوگوں کے لیے وہ صرف اس برے انجام سے ڈرانے کے ہم معنی ہو کر رہ جاتی ہے جس کی طرف وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ داعی یہ دیکھ کر تڑپتا ہے کہ جو چیز مجھے کامل صداقت کے روپ میں دکھائی دے رہی ہے اس کو بیشتر لوگ باطل سمجھ کر ٹھکرارہے ہیں۔ جو چیز میری نظر میں پہاڑ سے بھی زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ لوگ ایسا بے پروائی کا سلوک کررہے ہیں جیسے اس کی کچھ حقیقت ہی نہ ہو، جیسے وہ بالکل بے اصل ہو۔

یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کے لیے موقع ہے کہ اگر وہ کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ اس کو نہ مانے، حتی کہ وہ اس کو رد کرنے کے لیے خوبصورت الفاظ بھی پالے۔ مگر یہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک کھل جائے گا کہ داعی کی بات لوہے اور پتھر سے بھی زیادہ ثابت شدہ تھی۔ یہ صرف مخالفین کا تعصب اور ان کی انانیت تھی جس نے انھیں دلیل کو دلیل کی صورت میں دیکھنے نہ دیا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ داعیٔ حق کی باتوں کی رد میں جو دلیلیں وہ پیش کرتے تھے وہ محض دھاندلی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال۔

دنیا میں جو چیزیں کسی کو باوزن بناتی ہیں وہ یہ کہ اس کے گرد مادی رونقیں جمع ہوں۔ وہ الفاظ کے دریا بہانے کا فن جانتا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کی بھیڑ اکھٹا ہو گئی ہو۔ چوں کہ حق کے داعی کے ساتھ عام طورپر یہ اسباب جمع نہیں ہوتے اس لیے دنیاکے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ مگر قیامت جب مصنوعی پردوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل برعکس ہوجائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page