Tazkirul Quran, Qur’an 7:203–206
The Heights (Al-A‘raf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خداکے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے لیے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔
مثلاً فرض کیجیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جدید طرز کی ایک موٹر کار اتاردی جاتی جس میں لاؤڈاسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے لیے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے لیے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرا رہ جاتا اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔
کراماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرنے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل ودماغ پر اس طرح چھا جائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیداکردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست ہوجائے۔ وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔
آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تاکہ تمھیں فرشتوں کی معیت حاصل ہو۔ جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتاہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہوجاتاہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔