Tazkirul Quran, Qur’an 7:31–33
The Heights (Al-A‘raf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ حج کے لیے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیز گاری کا کوئی بڑا عمل کررہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کرکے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کررہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائیگی کے حد تک قائم ہیں۔
انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے لیے حلال نہ سمجھ لے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بَغْی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے وہ حق کو اختیار کرلے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ برتر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کردے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئی روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے لیے درست نہ ہو۔
آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس لیے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے لیے ہوں گی جن کے لیے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے لیے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس لیے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچۂ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حدود کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے، نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔