Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:59–64

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوں نے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔

اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوں نے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page