Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:73–74

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قوم عاد کی تباہی کے بعد اس کے صالح افراد عرب کے شمال مغرب میں حجر کے علاقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل بڑھی اور انھوں نے زراعت اور تعمیر میں بڑی ترقیاں کیں۔ انھوں نے میدانوں میں محل بنائے اور پہاڑوں کو تراش کر ان کو بڑے بڑے حجری مکانات کی صورت دے دی۔بعد کو ان میں وہ خرابیاں پیدا ہوگئیں جومادی ترقی اور دنیوی خوش حالی کے ساتھ قوموں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عیش پرستی، آخرت فراموشی، حدود اللہ سے بے پروائی، اللہ کی بڑائی کو بھول کر اپنی بڑائی قائم کرنا۔اس وقت اللہ نے حضرت صالح کو کھڑا کیا تاکہ وہ ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں۔ مگر انھوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ وہ اپنے فساد کو صلاح میں بدلنے پر راضی نہ ہوئے۔ جس کائنات میں تمام چیزیں خدا کی تابع بن کر رہ رہی ہیں وہاں انھوں نے خدا کا سرکش بن کر رہنا چاہا۔ جہاں ہر چیز اپنی حد کے اندر اپنا عمل کرتی ہے وہاں انھوں نے اپنی حد سے تجاوز کرکے زندہ رہنا چاہا۔ یہ ایک اصلاح یافتہ دنیا میں فساد پھیلانا تھا۔ چنانچہ ان کو دنیا میں بسنے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔

قوم ثمود کو جانچنے کے لیے خدا نے ایک اونٹنی مقرر کی اور کہا کہ اس کو تکلیف نہ پہنچانا ورنہ ہلاک کردیے جاؤ گے۔ خدا کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان کے لیے ایک خوفناک شیر مقرر کردے۔ مگر خدا نے شیر کے بجائے اونٹنی کو مقرر فرمایا۔ اس کا راز یہ ہے کہ آدمی کی خدا ترسی کا امتحان ہمیشہ ’’اونٹنی‘‘ کی سطح پر لیا جاتا ہے، نہ کہ ’’شیر ‘‘ کی سطح پر۔ سماج میں ہمیشہ کچھ ناقۃ اللہ (خدا کی اونٹنی) جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کم زور افراد ہیں جن کے ساتھ وہ مادی زور نہیں ہوتا جو لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ جن کے ساتھ حسن سلوک کا محرک صرف اخلاقی احساس ہوتا ہے، نہ کہ کوئی ڈر۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی سطح پر لوگوں کی خدا پرستی جانچی جارہی ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ کسی کو جنت کا سرٹیفکٹ دیا جارہا ہے اور کسی کو جہنم کا۔

ثمود نے فن تعمیر میں کمال پیداکیا۔ متعلقہ علوم مثلاً ریاضی، ہندسہ، انجینئرنگ میں بھی یقیناً انھوں نے ضروری دستگاہ حاصل کی ہوگی ورنہ یہ ترقیات ممکن نہ ہوتیں۔ مگر ان کو جس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا وہ ان کی مادی ترقیاں نہیں تھیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز حدود میں ترقی کرنے سے خدا نہیں روکتا۔ البتہ زندگی کے معاملات میں آدمی کو اس نظام اصلاح کا پابند رہنا چاہیے جو خدا نے پوری کائنات میں قائم کررکھا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page