Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:88–93

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے لیے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوں نے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔

وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوں نے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے میدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو بطور وارننگ یہ یاد دلایا کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے لیے کہیں جائے پناہ نہیں۔

کسی شخص کے لیے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے لیے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page