Tazkirul Quran, Qur’an 73:6–14
The Wrapped One (Al-Muzzammil)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اس آیت میں أشد وطأ کا لفظ قیامِ لیل کی نسبت سے آیا ہے۔ یعنی اس سے نفس روندا جاتا ہے، اور اقوم قیلا کا تعلق فہم کلام سے ہے۔ یعنی اس سے آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ کلام کو زیادہ بہتر طریقے پر سمجھ سکے۔یہ بات بظاہر پیغمبر اسلام کے بارے میں آئی ہے۔ تاہم پیغمبر کی اتباع کے اعتبار سے اس کا تعلق پوری امت سے ہے۔ اس میں پیغمبر کے حوالے سے پوری امت کے لیے رزق کا سامان موجود ہے۔
قرآن کی اس آیت میں وطأ شدید کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام رات کے وقت دیر تک کھڑے ہوکر عبادت کرتے تھے، اس سے آپ کے اوپر شدید بوجھ پڑتا تھا، گویا کہ آپ کا جسم روندا جارہا ہے۔ اس وطأ شدید کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس سے آپ کے اندر قول اقوم کی صلاحیت پیدا ہوتی تھی۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ جسمانی تعب آدمی کے لیے ایک قسم کا زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ ہوتا ہے۔ اس سے آدمی کی سوچ بیدار ہوتی ہے۔ اس سے آدمی کے دماغ کی کھڑکیاں کھلتی ہیں ۔ اس سے آدمی کے اندر زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت جاگتی ہے۔ غالباً اس وطأ شدید میں دوسرے وہ دینی اعمال بھی شامل ہیں ، جن میں آدمی کو شدید تعب کا تجربہ ہو۔ جو گویا آدمی کی شخصیت کو روند ڈالے۔ جس میں آدمی کا یہ حال ہو کہ اس کی شخصیت گویا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس گئی ہے۔ اگر ایسا ہو تو وہ آدمی کے اندر اعلیٰ فہم کی صلاحیت پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔
’’سبحِ طویل‘‘ سے مراد دعوتی سرگرمی ہے، یعنی دعوت وتبلیغ کی مجاہدانہ مصروفیت۔بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھنا مشکل ترین مہم کے لیے اٹھنا ہے۔ ایسا شخص پورے ماحول میں ایک غیر مطلوب شخص بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں حق کا داعی جس واحد ہستی کو اپنا مونس اور کارساز پاتا ہے وہ اس کا خدا ہے۔ وہ نہ صرف دل میں اپنے خدا کو یاد کرتا رہتا ہے بلکہ وہ رات کے وقتوں میں بھی اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ رات کا وقت فراغت کا وقت ہے۔ رات کے سناٹے میں اس کا زیادہ موقع ہوتا ہے کہ آدمی پوری یکسوئی کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہوسکے۔ دعوت حق کے کٹھن راستہ میں داعی کا اصل ہتھیار یہی ہے۔
تبتل کا مطلب نفسیاتی تبتل ہے، نہ کہ راہبانہ زندگی اختیار کرنا۔یعنی،اللہ رب العالمین کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنانا، اس سے حب شدید کا تعلق قائم کرنا، خدا رخی زندگی (God-oriented life) اختیار کرنا، وغیرہ(تبتل قلبک عما سوى ربک تبتیلا فتبتل للہ تعالى) تفسیر المظہری، جلد 10، صفحہ 110۔ آج کی زبان میں اس کو ڈسٹریکشن (distraction)سے دور رہنا کہا جاسکتا ہے۔ انسان کے لیے سچائی سے انحراف کا سب سے بڑا سبب ڈسٹریکشن ہوتا ہے۔
سچے داعی کا یہ طریقہ ہے کہ اس کو مدعو کی طرف سے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مدعو سے نہیں الجھتا ،بلکہ وہ خدا کی طرف دوڑتا ہے۔ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچاتا ہے۔ اور رد عمل کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرنا ہی وہ واحد لازمی شرط ہے جو کسی شخص کو حقیقی معنوں میں حق کا داعی بناتی ہے۔
ہجر جمیل کے لفظی معنیٰ ہیں — خوبصورتی کے ساتھ چھوڑنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں ستانے والوں کے ساتھ حسن اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کے معاملہ میں تمہارا طریقہ منفی رد عمل کا طریقہ نہیں ہوناچاہیے بلکہ مثبت رد عمل کا طریقہ ہونا چاہیے۔ تم کو چاہیےکہ اُن کے معاملہ میں در گزر کرو، اور اُن کے برے انداز کے مقابلہ میں تم اُن کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) بظاہر دوسرے کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اُس کا تعلق خود اپنی ذات سے ہے۔ مومن آخری حد تک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے اندر اعلیٰ اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔ کسی بھی حال میں اُس کے اندر کمی (erosion) نہ ہونے پائے۔ صبر اور حسن اعراض مومن کے لیے ایک خود حفاظتی تدبیر ہے۔ یہ اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ اُس کے سینے میں غیرمومنانہ نفسیات کی پرورش ہونے لگے۔
ہجر جمیل کی کوئی ایک لگی بندھی صورت نہیں ۔ حالات کے اعتبار سے اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں ۔ تاہم جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ سوچے سمجھے منصوبہ کی بنیاد پر ہوگی ، نہ کہ بلا سوچے سمجھے رد عمل کی حیثیت سے۔ اس کا بنیادی مقصد اعراض کرنا ہوگا، نہ کہ اُلجھ جانا۔ وہ ہمیشہ امن کے اصول پر ہوگی، نہ کہ تشدد کے اصول پر۔ اس کے پیچھے کبھی بھی نفرت اور انتقام کا جذبہ نہیں ہوگا بلکہ صرف یہ جذبہ ہوگا کہ کسی نہ کسی طرح حسن تدبیر کے ذریعہ معاملہ کو ٹال دیا جائے تاکہ مومنانہ زندگی کی گاڑی معمول کے مطابق اپنے مطلوب رُخ پر چلنے لگے۔