Tazkirul Quran, Qur’an 9:71–72
Repentance (Al-Tawbah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
منافقانہ طورپر اسلام سے وابستہ رہنے والے لوگوں میں جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ ہیں آخرت سے غفلت، دنیوی ضرورتوں سے دل چسپی، بھلائی کے ساتھ تعاون سے دوری اور نمائشی کاموں کی طرف رغبت۔ ان مشترک خصوصیات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے خوب ملے جلے رہتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کو مشترک دل چسپی کا موضوعِ گفتگو دیتی ہیں۔ اس سے انھیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا میدان حاصل ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے باہمی تعلقات کا ذریعہ بنتا ہے۔
یہی معاملہ ایک اور شکل میں سچے اہل ایمان کاہوتاہے۔ ان کے دل میں خدا کی لگن لگی ہوئی ہوتی ہے۔ ان کو سب سے زیادہ آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی چیزوں سے بطور ضرورت تعلق رکھتے ہیں نہ کہ بطور مقصد، خدا کی پسند کا کام ہورہا ہو تو ان کا دل فوراً اس کی طرف کھینچ اٹھتا ہے۔ برائی کا کام ہو تو اس سے ان کی طبیعت اِبا کرتی ہے۔ ان کی زندگی اور ان کا اثاثہ سب سے زیادہ خدا کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اپنے لیے۔ وہ خدا کی یاد کرنے والے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
اہل ایمان کے یہ مشترک اوصاف انھیں ایک دوسرے سے قریب کردیتے ہیں۔ سب کی دوڑ خدا کی طرف ہوتی ہے۔ سب کی اطاعت کا مرکز خدا کا رسول ہوتا ہے۔ جب وہ ملتے ہیں تو یہی وہ باہمی دلچسپی کی چیزیں ہوتی ہیں جن پر وہ بات کریں۔انھیں اوصاف کے ذریعہ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔ اسی کی بنیاد پر ان کے آپس کے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے انھیں وہ مقصد ہاتھ آتا ہے جس کے لیے وہ متحدہ کوشش کریں۔ اسی سے ان کو وہ نشانہ ملتاہے، جس کی طرف سب مل کر آگے بڑھیں۔
دنیا میں اہلِ ایمان کی زندگی ان کی آخرت کی زندگی کی تمثیل ہے۔ دنیا میں اہل ایمان اس طرح جیتے ہیں جیسے ایک باغ میں بہت سے شاداب درخت کھڑے ہوں۔ ہر ایک دوسرے کے حسن میں اضافہ کررہا ہو۔ ان درختوں کو فیضانِ خداوندی سے نکلنے والے آنسو سیراب کررہے ہوں۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا اس طرح خیرخواہ اور ساتھی ہو کہ پورا ماحول امن وسکون کا گہوارہ بن جائے۔ یہی ربانی زندگی آخرت میں جنتی زندگی میں تبدیل ہوجائے گی۔ وہاں آدمی نہ صرف اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا بلکہ خدا کی خصوصی رحمت سے ایسے انعامات پائے گا جن کا اس سے پہلے اس نے تصور نہیں کیا تھا۔