Tazkirul Quran, Qur’an 9:75–80
Repentance (Al-Tawbah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لیے دعاکیجیے کہ خدا مجھے ما ل دے دے۔ آپ نے فرمایا تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کرسکو۔ مگر ثعلبہ نے بار بار درخواست کی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ خدایا، ثعلبہ کو مال دے دے۔ اس کے بعد ثعلبہ نے بکری پالی۔ اس کی نسل اتنی بڑھی کہ مدینہ کی زمین ان کی بکریوں کے لیے تنگ ہوگئی۔ ثعلبہ نے مدینہ کے باہر ایک وادی میں رہنا شروع کیا۔
اب ثعلبہ کے اسلام میں کمزوری آنا شروع ہوئی۔ پہلے ان کی جماعت کی نماز چھوٹی۔ پھر جمعہ چھوٹ گیا۔ حتی کہ یہ نوبت آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل ثعلبہ کے پاس زکوٰۃ لینے کے لیے گیاتو ثعلبہ نے زکوٰۃ نہیں دی اور کہا کہ زکوٰۃ تو جزیہ کی بہن معلوم ہوتی ہے (مَا هَذِهِ إِلا جِزْيَةٌ، مَا هَذِهِ إِلا أُخْتُ الْجِزْيَةِ )اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ، جلد1، صفحہ462۔
وہ شخص خدا کی نظر میں منافق ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ مال کے لیے خدا سے دعائیں کرے اور جب خدا اس کو مال والا بنا دے تو وہ اپنے مال میں خدا کا حق نکالنا بھول جائے۔ آدمی کے پاس مال نہیں ہوتا تو وہ مال والوں کو برا کہتا ہے کہ یہ لوگ مال کو غلط کاموں میں برباد کرتے ہیں۔ اگر خدا مجھ کو مال دے تو میں اس کو خیر کے کاموں میں خرچ کروں۔ مگر جب اس کے پاس مال آتاہے تو اس کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ بھول جاتاہے کہ پہلے اس نے کیا کہا تھا اور کن جذبات کا اظہار کیا تھا۔ اب وہ مال کو اپنی محنت اور لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر تنہا اس کا مالک بن جاتا ہے۔ خدا کا حق ادا کرنا اسے یاد نہیں رہتا۔
اس قسم کے لوگ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے مزید سرکشی یہ کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ کسی نے زیادہ دیا تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خداکو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انھیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ تر حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں۔