Tazkirul Quran, Qur’an 9:85–89
Repentance (Al-Tawbah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
منافق اپنے دنیا پرستانہ طریقوں کی وجہ سے اپنے آس پاس دنیا کا سازوسامان جمع کرلیتا ہے۔ اس کے ساتھ مددگاروں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیزیں سطحی قسم کے لوگوں کے لیے مرعوب کن بن جاتی ہیں۔ لیکن گہری نظر سے دیکھنے والوں کے لیے اس کی ظاہری چمک دمک قابل رشک نہیں بلکہ قابل عبرت ہے۔ کیوں کہ یہ چیزیں جن لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ ان کے لیے خدا کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو کسی تحفظ اور کسی مصلحت کے بغیر خدا کی طرف بڑھے۔ مگر جو لوگ دنیا کی رونقوں میں گھرے ہوئے ہوں وہ ان سے اوپر نہیں اٹھ پاتے جب بھی وہ خدا کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں ان کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ کھو دیں گے۔ وہ اس قربانی کی ہمت نہیں کرپاتے، اس لیے وہ خدا کے وفادار بھی نہیں ہوتے۔ ان کی دنیوی ترقیاں ان کو اس بربادی کی قیمت پر ملتی ہیں کہ آخرت میں وہ بالکل محروم ہوکر حاضر ہوں۔
اس کے برعکس، جو سچے اہلِ ایمان ہیں وہ سب سے بڑا مقام خدا کو دیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لیے دوسری ہر چیز انھیں خدا کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ وہ ہر قربانی دے کر خدا کی طرف بڑھنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے خدا کی رحمتیں اور نعمتیں ہیں۔ ان کے اور خدا کی ابدی جنت کے درمیان موت کے سوا کوئی چیز حائل نہیں۔