زندگی کا سفر
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کا سفر مصطفیٰ رشید شیروانی، مشہور مجاہد آزادی اور صنعت کار اور ممیر راجیہ سبھا، ٹرین کے ذریعہ الہ آباد سے دہلی جا رہے تھے۔ گورنر کشمیر مستری کے نہرو بھی انھیں کے کمپارٹمنٹ میں تھے۔ ٹرین غازی آباد پہنچی تھی کہ مصطفیٰ رشید شروانی پر دل کا سخت دورہ پڑا۔ قبل اس کے کہ انھیں کوئی طبی امداد پہنچے، فوراً ہی ٹرین میں ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ ۸ اپریل ۱۹۸۱ء کا واقعہ ہے۔ انتقال کے وقت مرحوم کی عمر ۵۹ سال تھی۔ اس طرح کے واقعات مختلف شکلوں میں ہر روز ہوتے ہیں۔ ہر دن بے شمار زندہ لوگ موت کے دروازہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ہر روز لاکھوں آدمیوں کے ساتھ یہ واقعہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقام سے نکل کر کسی ”دہلی“ کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ مگر درمیان ہی میں ان کو خدا کے فرشتے پکڑ لیتے ہیں اور ان کو ”دہلی“ کے بجائے آخرت کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ ہر آدمی امیدوں اور تمناؤں کی ایک دنیا اپنے ذہن میں لئے ہوئے ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی امیدوں کی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ میں اپنے خوابوں والے ”کل“ کی طرف چلا جا رہا ہوں۔ مگر بہت جلد اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمناؤں والی دنیا کے بجائے خدا کی دنیا کی طرف بڑھ رہا تھا، وہ دنیا کی منزل کی طرف نہیں بلکہ آخرت کی منزل کی طرف چلا جا رہا تھا۔ آدمی کہاں جا رہا ہے اور کہاں پہنچ رہا ہے، مگر کسی کو اس کی خبر نہیں۔ آدمی اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے مگر قبل اس کے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھ کر خوش ہو وہ خود اپنے اس مستقبل کی طرف ہانک دیا جاتا ہے جس کے لئے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ آدمی اپنے آرام کے لئے ایک شان دار مکان کھڑا کرتا ہے مگر ابھی وہ وقت نہیں آتا کہ وہ اپنے خوابوں کے مکان میں سکھ چین کے ساتھ رہے کہ موت اس کے اور اس کے مکان کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ آدمی اپنی معاش کو بڑھاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں عزت و ترقی کی بلندیوں پر اپنے کو بٹھانے جا رہا ہوں مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا دن اس کے لئے جس چیز کا انتظار کر رہا تھا وہ ایک سنسان قبر تھی نہ کہ عزت و ترقی کی رونقیں۔ خدا ہر دن کسی ”دہلی“ کے مسافر کو ”قبر“ میں پہنچا رہا ہے۔ مگر آدمی ان واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ اس کے باوجود ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ وہ ”دہلی“ کی طرف چلا جا رہا ہے۔ قبر کی منزل اس کے لئے کبھی آنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader