Urdu book · آخری سفر

گڑھے میں پاؤں

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

گڑھے میں پاؤں مسٹر پی ردی۔ وینکٹیشورن ایک سرکاری ادارہ میں چیف مارکیٹنگ منیجر تھے۔ ۲۹ مئی ۱۹۸۲ کی شام کو انھوں نے دہلی کے گوپالا ٹاور میں ایک میٹنگ میں شرکت کی۔ آٹھویں منزل پر اپنی میٹنگ سے فارغ ہو کر وہ دفتر سے باہر نکلے تو بجلی فیل ہو چکی تھی، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ لفٹ تک آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ اس کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ وہ سمجھے کہ لفٹ آ گئی ہے حالاں کہ لفٹ ابھی اوپر نویں منزل پر تھی۔ مسٹر وینکٹیشورن لفٹ کے دروازے کی طرف لپکے۔ اس وقت وہ میٹنگ کے فیصلوں سے اتنا خوش تھے کہ وہ صورت حال کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکے۔ انھوں نے اپنا ایک پاؤں لفٹ کے اندر ڈال دیا۔ مگر وہاں خالی تھا۔ وہ اچانک آٹھویں منزل سے زمین پر آ گئے۔ ان کا ذاتی ڈاکٹر ان کے ساتھ تھا مگر وہ صرف یہ خدمت انجام دے سکا کہ نیچے اتر کر ان کی لاش کو دیکھے اور ان کے مردہ ہونے کا اعلان کرے۔ موت کے وقت ان کی عمر کیاون سال تھی (ہندوستان ٹائمز ۳۰ مئی ۱۹۸۲) مسٹر وینکٹیشورن ایک نہایت کامیاب افسر تھے۔ حال میں ایک سرکاری جڑنل میں ان کے بارے میں یہ الفاظ چھپے تھے ۔ ایک بہادر کارکن، ایک مستعد اور اختراعی منتظم، جس کے اندر میں آگ لگی ہوئی ہو اور جس کے دماغ میں نظریات کا خزانہ ہو، ایک ہوشیار جنرل: A thoroughbred professional and a dashing innovative manager with fire in his belly and ideas in his mind, an astute general دنیا کے اعتبار سے مسٹر وینکٹیشورن کا کیس ایک انوکھا کیس ہے۔ مگر آخرت کے اعتبار سے ہر آدمی یہی فعل انجام دے رہا ہے، ہر آدمی عقلمندی اور کامیابی کے جوش میں ایسی جگہ اپنا پاؤں رکھ رہا ہے جو اس کو سیدھے آخرت کے گڑھے میں گرا دینے والا ہے ۔ کسی کو بے عزت کرنے والے الفاظ بولنا، کسی کو ستانے کے لئے اقدام کرنا، کسی کے خلاف ضد اور انتقام کے تحت کارروائی کرنا، کسی کے ساتھ ظلم اور بے انصافی برتنا۔ کسی کو ناحق اپنے زور و طاقت کا نشانہ بنانا، کسی کا بے دلیل مذاق اڑانا، یہ سب گویا "آٹھویں منزل" کے خالی مقام پر پاؤں رکھنا ہے۔ ایسا ہر اقدام آدمی کو تباہی کے نچلے گڑھے میں پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد نہ اس کے ساتھی اس کو بچانے والے ثابت ہو سکتے ہیں نہ اس کی خوش فہمیاں ۔ ہر آدمی گڑھے میں پاؤں رکھ رہا ہے۔ اگر چہ بطور خود وہ سمجھتا ہے کہ وہ محفوظ تختہ پر اپنا قدم جمائے ہوئے ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page