Urdu book · آخری سفر

آخری منزل

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

پیش آیا، اس کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ ایک سال بعد تن زنگ نارگے او پر چڑھا رہا تھا کہ اس کو ایک مقام پر موریس ولن کی لاش ملی اور اسی کے ساتھ اس کی ڈائری بھی۔ جس کا آخری اندراج وہ جملہ تھا جس کو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔ موریس ولسن ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی پر خودکار کیمرہ کے ذریعہ اپنی تصویر کھینچنا چاہتا تھا اس کو امید تھی کہ کیمرہ کی آنکھ اس کو فتح کی چوٹی پر دیکھے گی۔ جب یہ تاریخ آئی تو وہاں نہ کوئی ولسن تھا جو اپنی فتح و کامیابی کو دیکھ کر خوش ہو، اور نہ کوئی کیمرہ تھا جو اس کی فتح و کامیابی کے واقعہ کوریکارڈ کرے۔ یہ کہانی بدلی ہوئی صورت میں ہر آدمی کی کہانی ہے۔ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی کی چوٹی پر پہنچنے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہر آدمی صرف ایک ایسی منزل کی جانب چلا جا رہا ہے جہاں موت کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں جو اس کا استقبال کرنے کیلئے موجود ہو۔ موجودہ دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جو دنیوی کامیابیوں کی صرف تمنا کرتے رہتے ہیں۔ اور بالآخر اس طرح مرجاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خوابوں کی دنیا کی طرف سفر بھی شروع نہیں کیا تھا۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اپنی زندگی میں، کم یا زیادہ ، ان خواہشوں کو پالیتے ہیں۔ مگر پانے والے بھی ان چیزوں سے اتنا ہی دور رہتے ہیں جتنا کہ نہ پانے والے۔ کیونکہ ان کو پالینے کے بعد آدمی پر کھلتا ہے کہ اس کو وہ طاقت اور مواقع حاصل نہیں جوان چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضروری ہیں ۔ اس دنیا میں پانے والا بھی اتناہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔ انسان کتنازیادہ محروم ہے۔ مگر وہ اپنے آپ کو کتنازیادہ پانے والا سمجھتا ہے۔ زندگی کس قدر غیر یقینی ہے مگر آدمی اس کو کس قدر یقینی سمجھ لیتا ہے۔ آدمی صرف نامعلوم کل کے راستہ پر جارہا ہے مگر وہ گمان کرلیتا ہے کہ وہ معلوم آج میں اپنی کامیاب دنیا تعمیر کر رہا ہے۔ کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جو اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں۔ کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کا نام کا میاب انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہوا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page