Urdu book · آخری سفر

فیصلہ کے دن

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

فیصلہ کے دن انڈین ایکسپریس (بنگلور) کی اشاعت مورخہ 9 ستمبر ۱۹۸۳ء کی ایک خبر کا عنوان ہے چمک دار چیز سونا نہیں ! Glitter is not gold خبر میں بتایا گیا ہے کہ مس سبل ڈی سلوا (Miss Sybil D'Silva) جو بنگلور میں آرٹیلری روڈ پر رہتی ہیں، وہ اپنے گھر پر تھیں کہ تقریباً ۴۵ سال کی ایک عورت ان کے پاس آئی۔ اس کی گود میں چھ مہینہ کا ایک بچہ تھا۔ عورت نے مس ڈی سلوا سے کہا کہ اس کا شوہر بہت زیادہ بیمار ہے اور اس کے علاج کے لئے فوری طور پر ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔ عورت نے سونے کا ایک ہار اپنی جیب سے نکالا اور کہا کہ میں آپ سے بھیک نہیں مانگ رہی ہوں۔ میں صرف اس سونے کے ہار کو بیچنا چاہتی ہوں۔ اگرچہ یہ ہار مجھے بہت عزیز ہے مگر شوہر کی صحت اس سے زیادہ عزیز ہے۔ اس ہار کی قیمت بازار میں دس ہزار روپے سے کم نہیں ہے۔ میں اپنی ضرورت کی بنا پر آپ کو صرف ۵ ہزار میں دے دوں گی۔ مس ڈی سلوا نے ہار لینے سے انکار کیا لیکن عورت اپنی مجبوری بیان کرتی رہی۔ یہاں تک کہ اس نے مس ڈی سلوا کو متاثر کر لیا۔ انھوں نے روپیہ دے کر ہار خرید لیا۔ اگلے دن مس ڈی سلوا بنگلور کی کمرشل اسٹریٹ پر گئیں اور وہاں ایک سنار کو انھوں نے وہ ہار دکھایا۔ سنار نے وہ ہار لے کر اپنی کسوٹی پر جانچا۔ کسوٹی پر جانچنے کے بعد ہار کی حقیقت کھل گئی ۔ مس ڈی سلوا نے بنگلور پولیس کو یہ کہانی سناتے ہوئے کہا کہ سنار نے مجھے بتایا کہ یہ تو پیتل ہے۔ He told me it was brass یہی آخرت کا معاملہ بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے کئے پر مگن ہے۔ ہر آدمی اپنے کام کو سونا سمجھتا ہے۔ مگر کوئی سونا اسی وقت سونا ہے جب کہ وہ سنار کی کسوٹی پر بھی سونا ثابت ہو۔ آخرت میں خدا ہر آدمی کے عمل کو اپنی کسوٹی پر جانچے گا۔ جس کا عمل وہاں کی جانچ میں سونا ثابت ہو اسی کے عمل کی قیمت ہے، اور جس کے عمل کے بارے میں یہ کہہ دیا جائے کہ یہ تو پیتل تھا، اس کا سونا اس کے لئے صرف رسوائی اور بربادی کی علامت ہوگا۔ جس چیز کو آدمی آج اتنا قیمتی سمجھے ہوئے ہے کہ وہ اس کو کسی طرح چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، اس دن وہ اس سے اتنا بیزار ہوگا کہ وہ چاہے گا کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ اس کے اور اس کے عمل کے درمیان جدائی ہو جائے مگر اس دن جدائی نہ ہوسکے گی۔ جس چیز کو وہ فخر کی چیز سمجھے ہوئے تھا، اس دن وہ اس کے لئے صرف ذلت اور رسوائی کی چیز بن جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page