Urdu book · آخری سفر

جب حقیقت کھلے گی

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

جب حقیقت کھلے گی دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔ وہ دکھاوے کے لئے خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال آخرت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہاں جب کہا جائے گا کہ اپنے رب کو سجدہ کرو تو وہ وہاں سجدہ نہ کر سکیں گے (قرآن ۶۸ - ۴۲)۔ سجدہ محض ایک وقتی اور رسمی نوعیت کا جسمانی فعل نہیں۔ وہ اپنے آپ کو حقیقتِ اعلیٰ کے آگے جھکانا ہے، وہ اپنی پوری زندگی کو حق و صداقت کے تابع بنا دینا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں محدود معنوں میں صرف " سجدہ " کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ آیت پوری زندگی کے بارہ میں ایک اہم حقیقت کو بتا رہی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر شخص اور ہر قوم کا یہ حال ہے کہ ان کے دل سچائی کے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو حق کے تابع نہیں بنایا ہے۔ مگر ظاہری رویہ میں ہر ایک یہ دکھار ہا ہے کہ وہ حق پر قائم ہے۔ ہرایک اپنی زبان سے ایسے الفاظ بول رہا ہے گویا کہ اس کا کیس انصاف کا کیس ہے نہ کہ ظلم اور استغلال کا کیس۔ مگر اس قسم کی دھاندلی صرف موجودہ استخانی دنیا میں ممکن ہے۔ آخرت کے آتے ہی پوری صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ بازار میں کھوٹے سکے چل سکتے ہیں مگر بنک میں کھوٹے سکے نہیں چلتے۔ اسی طرح آخرت میں اس کا امکان ختم ہو جائے گا کہ کوئی جھوٹی بات کو سچے الفاظ میں بیان کرے ۔ کوئی بے انصافی کے عمل کو انصاف کا عمل ثابت کرے ۔ آخرت میں یہ ہوگا کہ الفاظ جھوٹے معانی کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ ظلم کو انصاف بتائے اور باطل کو حق کے لباس میں پیش کرے۔ اس وقت ظاہر اور باطن کا فرق ختم ہو جائے گا۔ آدمی کی زبان وہی بول سکے گی جو اس کے دل میں ہے ۔ اس دن ہر آدمی عین اس روپ میں دکھائی دے گا جو با اعتبار حقیقت تھا نہ کہ اس ردپ میں جو وہ مصنوعی طور پر دوسروں کے سامنے ظاہر کر رہا تھا۔ لوگ انسان کے سامنے اپنے آپ کو حق بجانب دکھاکر مطمئن ہیں کہ وہ حق بجانب ثابت ہو گئے۔ حالانکہ حق بجانب وہ ہے جو خدا کے سامنے حق بجانب ثابت ہو۔ اور وہاں کا حال یہ ہے کہ وہاں صرف حق ہی ثابت ہوگا اور جو باطل ہے وہ وہاں صرف باطل ہو کر رہ جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page