احیارِ اسلام
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
نتیجہ میں کائنات میں چھپے ہوئے ایسے فطری حقائق انسان کے علم میں آئے جو اسلام کی تعلیمات کی تصدیق اعلیٰ سطح پر کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انسان کی تحقیق نے بتایا کہ کائنات میں ہر جگہ ایک ہی قانونِ فطرت کار فرما ہے۔ جو قانون زمین کے احوال پر حکمران ہے وہی قانون کائنات کے دور دراز مقامات پر بھی حکمران ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک ہے۔ دو خدا یا بہت سے خداؤں کی اس کائنات میں گنجائش نہیں۔ ۳۔ دینِ توحید کو قدیم زمانہ میں اختیار کرنے کے لئے، ایک علمی رکاوٹ، قدیم فلسفہ بھی تھا۔ قدیم زمانہ میں فلسفہ کو غالب علم کا مقام حاصل تھا۔ تعلیم یافتہ طبقہ کے سوچنے کی ذہنی زمین اس زمانہ میں فلسفہ ہوتا تھا۔ اس کے نتیجہ میں دین توحید کی راہ میں ایک بہت بڑی مصنوعی رکاوٹ حائل ہو گئی تھی۔ قدیم فلسفہ کا آخری نشانہ ہمیشہ سے آخری سچائی کی تلاش رہا ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً پانچ ہزار سال کی شان دار تاریخ کے باوجود فلسفہ اپنے نشانہ تک پہنچنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسفہ انسان کی محدودیتوں (Limitations) کا ادراک نہ کر سکا۔ وہ آخری سچائی تک پہنچنے کے لئے ساری کوششیں صرف کرتا رہا۔ جب کہ انسان اپنی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے بطور خود آخری سچائی تک پہنچ ہی نہ سکتا تھا۔ اس فلسفیانہ طرزِ فکر کی وجہ سے ہزاروں برس تک انسان یہ چاہتا رہا کہ دینِ توحید کی بنیاد جن اساسی عقائد پر قائم ہے اس کو انسان کے لئے مکمل طور پر معلوم اور مشاہد بنا دیا جائے۔ مگر یہ تمام غیبی حقیقتیں تھیں اور انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ ان غیبی حقیقتوں کا کامل ادراک نہیں کر سکتا ۔ جدید سائنس کا، دینی نقطۂ نظر سے، سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اس مفروضہ کو ڈھادیا۔ اس نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی صلاحیتیں محدود ہیں۔ وہ اپنی محدودیت کی وجہ سے حقیقت کا کلی ادراک نہیں کر سکتا۔ قدیم فلسفہ کی پیدا کردہ ذہنی زمین اب ساری دنیا میں دفاعی حیثیت کے مقام پر جا چکی ہے اور اب سائنس کی دریافت کردہ ذہنی زمین کو علمی دنیا میں غالب مقام حاصل ہے۔ ذہن کی اس تبدیلی نے دینِ توحید کے لئے راستہ صاف کر دیا ہے۔ اب اس نقطۂ نظر کو، کم از کم بالواسطہ طور پر، مکمل علمی تائید حاصل ہے کہ انسان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ حقیقتِ اعلیٰ کو پانے کے لئے وہ پیغمبر کی اطلاع کا اعتبار کرے۔ اب یہ مطالبہ سراسر غیر علمی مطالبہ بن چکا ہے کہ خدا اور وحی اور آخرت کو ہماری آنکھوں سے ہمیں دکھاؤ، اس کے بعد ہی ہم اس پر ایمان لائیں گے۔ معلوم تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ خود علم انسانی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کا علم محدود ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader