احیارِ اسلام
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانوں کی ایک جماعت درکار ہے۔ ایسی ایک جماعت اگر کھڑی ہو جائے تو قریبی مستقبل میں اسی طرح دوبارہ اسلام کو فکری غلبہ مل سکتا ہے جس طرح قرن اول میں اس کو شرک کے مقابلہ میں فکری غلبہ حاصل ہوا تھا۔ اوپر جن امکانات کا ذکر ہوا وہ تقریباً ایک سو سال سے ایسی کسی جماعت کا انتظار کر رہے ہیں مگر بدقسمتی سے ایسی کوئی جماعت ابھی تک کھڑی نہ ہوسکی۔ اس میں شک نہیں کہ پچھلے سو سال کے اندر ہمارے یہاں بے شمار جماعتیں اور تحریکیں اٹھی ہیں، مگر یہ تحریکیں وقتی حالات، خصوصاً سیاسی حالات کے ردعمل کے طور پر اٹھیں نہ کہ اس ربانی شعور کے تحت جو پچھلے ہزار سال سے تاریخ کے اندر کام کرتا رہا ہے اور چودھویں صدی ہجری میں اپنی تکمیل کو پہنچا ہے۔ سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقت دراہل کفر ناطا ہر کمزور اہل ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدت احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے ۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: اللهم ان تهلك هذه العصابة لا تعبد بعدها فی الارض (خدایا! اگر یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی)۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ رو میں جو بے سرد سامانی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں یہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ عصابہ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اسی طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اپنے شعور کے اعتبار سے پھیلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اہل ارادہ اپنے اندر لئے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے۔ کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں گے ۔ اور بالاخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader