Urdu book · احیاء اسلام

اصحابِ رسول

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم نبی کی نبوت تاریخی روایات کے نتیجہ میں ثابت شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ کسی قوم کے قومی اثاثہ کا ایک لازمی جز نہ ہوتی ہے۔ کسی قوم میں آنے والا نبی اس کی بعد کی نسلوں کے لئے ایک طرح کا مقدس ہیرو بن جاتا ہے۔ اس کو ماننا اپنے قومی تشخص کو قائم کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے نبی کو کون نہیں مانے گا۔ مگر وقت کے نبی کی نبوت ایک متنازعہ نبوت ہوتی ہے۔ وہ التباس کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کو ماننے کے لئے ظواہر کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کا ساتھ دینے کے لئے اپنی انا کو دفن کرنا ہوتا ہے۔ اس کے مشن کی راہ میں اپنا سرمایہ خرچ کرنا ایک ایسے مشن کی راہ میں اپنا سرمایہ خرچ کرنا ہوتا ہے جس کا بر سر حق ہونا ابھی اختلافی ہو، جس کے بارے میں تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہ ہوئی ہوں۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنھوں نے معاصر رسول کو اس طرح مانا جس طرح کوئی شخص تاریخی رسول کو مانتا ہے۔ غزوہ خندق میں جب محاصرہ شدید ہوا اور معمولی ضروریات کی فراہمی ناممکن ہو گئی تو ایک مسلمان کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا کہ عہد ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ ہم کسریٰ اور قیصر کے خزانے حاصل کریں گے اور اب یہ حال ہے کہ ہمارا ایک شخص بیت الخلا جانے کے لئے بھی محفوظ نہیں (کان محمد یعدنا ان ناکل کنوز کسریٰ و قیصر و احدنا لا یامنی ان يذھب الى الغائط، سيرة ابن ہشام جرتانی صفحہ ۱۴۱)، غزوہ خندق کے وقت رسول اللہ کا وہ وعدہ محض ایک جعلی وعدہ تھا، آج یہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے۔ صحابہ نے اس وعدہ کے تاریخی واقعہ بننے سے پہلے رسول کی عظمت کو مانا۔ ہم آج اس وعدہ کے تاریخی واقعہ بننے کے بعد رسول کی عظمت کو مان رہے ہیں۔ دونوں ماننے میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک کو دوسرے سے کوئی نسبت نہیں۔ آج ایک غیر مسلم محقق بھی پیغمبر اسلام کو تاریخ کا سب سے بڑا انسان کہنے پر مجبور ہے مگر آپ کی زندگی میں آپ کی عظمت کو پہچاننا اتنا مشکل تھا کہ صرف وہی لوگ اس کو پہچان سکتے تھے جن کو خدا کی طرف سے خصوصی توفیق ملی ہو۔ قرآن کو دور نزاع میں اپنانا سیرت کی کتابوں میں صحابہ کا دعوتی طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ قرآن کے نازل شدہ حصہ کو لے لیتے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سناتے تھے (رض من عليهم السلام وتلا عليهم القرآن) چنانچہ مدینہ میں جو صحابہ تبلیغ کے لئے گئے ان کو وہاں مقری (قرآن پڑھنے والا) کہا جاتا تھا۔ یہ بات آج کے ماحول میں بظاہرانوکھی معلوم نہیں ہوتی۔ لیکن اگر چودہ سو سال کی تاریخ کو حذف کر کے آپ اسلام کے ابتدائی دور میں پہنچ جائیں اور اس وقت کے حالات میں اسے دیکھیں تو یہ اتنا انوکھا واقعہ معلوم ہوگا کہ نہ اس سے پہلے وہ کبھی جماعتی سطح پر پیش آیا اور نہ اس کے بعد۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page