اصحابِ رسول
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوا کہ دونوں دستوں کا امیر کون ہو۔ حضرت عمرو بن العاص نے کہا کہ دوسرا دستہ میری مدد کے لئے بھیجا گیا ہے اس لئے اصلا میں ہی دونوں کا امیر ہوں۔ حضرت ابو عبیدہ کے ساتھی اس سے متفق نہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یا تو ابو عبیدہ دونوں دستوں کے مشترک امیر ہوں یا دونوں دستوں کا امیر الگ الگ رہے۔ جب اختلاف بڑھا تو ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا: اے عمرو! جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو آخری عہد لیا وہ یہ تھا کہ آپ نے کہا کہ جب تم اپنے ساتھی سے ملو تو ایک دوسرے کی بات ماننا اور اختلاف نہ کرنا۔ اس لئے خدا کی قسم اگر تم میری نافرمانی کرو گے تب بھی میں تمھاری اطاعت کروں گا (تعلم یا عمرو ان آخر ما عهد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان قال : اذا قدمت على صاحبك فتهاد واد ولا تختلفا ۔ وانك والله ان عصيتني لا طعتك ، رواه البيهقي وابن عساكر) حضرت ابو عبیدہ کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ ذمہ داری کو عمرو بن العاص پر ڈال کر ان سے لاتناہی بحث کرتے رہیں۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتے تو وہ بہت سے ایسے الفاظ پاسکتے تھے جن میں ان کا اپنا وجو د بالکل درست اور دوسرے کا وجود بالکل باطل دکھائی دے۔ مگر اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ ساری ذمہ داری خود اپنے اوپر لے لی۔ انھوں نے مسئلہ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا۔ اجتماعی زندگی میں یہ چیز بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی اجتماعی زندگی چلتی ہی اس وقت ہے جب کہ اس کے افراد میں اتنی بلندی ہو کہ وہ حقوق کی بحث میں پڑے بغیر اپنے اوپر ذمہ داری لینے کی جرات رکھتے ہوں۔ جہاں یہ مزاج نہ ہو وہاں صرف آپس کا اختلاف جنم لیتا ہے نہ کہ آپس کا اتحاد۔ شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا خالد بن الولید بے حد بہادر تھے۔ ان کے اندر غیر معمولی فوجی قابلیت تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر حضرت ابو بکر کی خلافت تک وہ مسلسل اسلامی فوج کے سردار رہے۔ تاہم حضرت عمر کو ان کی بعض عادتیں پسند تھیں۔ چنانچہ انھوں نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ ان کو سرداری کے عہدہ سے ہٹایا جائے ۔ مگر حضرت ابو بکر نے ان کے مشورہ کو نہیں مانا۔ مگر حضرت عمر کو اپنی رائے پر اتنا اصرار تھا کہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو انھوں نے حضرت خالد کو سرداری سے معزول کر کے ایک معمولی سپاہی کی حیثیت دے دی۔ اس وقت حضرت خالد شام کے علاقہ میں فتوحات کے کارنامے دکھا رہے تھے۔ عین اس وقت خلیفہ ثانی نے انھیں معزول کر کے ابو عبیدہ بن الجراح کو ان کے اوپر سردار شکریہ بنا دیا۔ اس کے بعد فوجوں کی ایک تعداد خالد بن ولید کے خیمہ میں جمع ہوئی اور ان سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، آپ خلیفہ کا حکم نہ مانیے۔ مگر حضرت خالد نے سب کو رخصت کر دیا اور کہا کہ میں عمر کے لئے نہیں لڑتا بلکہ عمر کے رب کے لئے لڑتا ہوں (انی لا قاتل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader