Urdu book · احیاء اسلام

ذہنی بیداری

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

ضرب وہ ہے جو تنظیمی مذہب یا سماج روپی دین پر جے ہوئے لوگوں کو اپنی جگہ سے ہلا دے اور ان کو ذہنی اعتبار سے اس مقام پر لائے جہاں وہ کتاب و سنت والے دین کے مخاطب بن سکیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی واقعہ پیش آیا تھا۔ اب اسی واقعہ کو دوبارہ ظہور میں لانے کی کوشش کا نام تجدید دین ہے آج تجدید دین کا مطلب اسی کار نبوت کو دہرانا ہے۔ نبی نے اپنے زمانہ میں سابقہ ادیان کی بنیاد پر قائم شدہ ڈھانچہ کے مقابلہ میں خدا کے دین کو زندہ کیا تھا۔ آج خود اسلام کی بنیاد پر قائم شدہ ڈھانچہ کے مقابلہ میں خدا کے خالص دین کو از سر نو زندہ کرنا ہے۔ اس عمل کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ لوگوں کا دین جو ٹوٹے ۔ شخصیتوں اور اداروں میں اٹکے ہوئے لوگ براہ راست خدا کو اپنا مرکز توجہ بنائیں۔ جزئی مسائل کو دین سمجھنے والے اساسی امور کو دین سمجھیں اور طلسماتی فضائل پر بھروسہ کرنے والے لوگ حقائق کی بنیاد پر اپنے دین کی تعمیر کریں۔ جن لوگوں نے بے روح عملیات کو دین کے ہم معنی سمجھ لیا ہے وہ زندہ دین کی لذتوں سے آشنا ہوں ۔ جن کے یہاں دین ابھی تک چنگلیا کی مانند ایک ضمیمہ بنا ہوا ہے وہ ان کی زندگیوں میں اس طرح داخل ہو کہ وہ ان کے کردار کے لئے قوت محرکہ بن جائے۔ جو لوگ کچھ مصنوعی اعمال کو دین داری سمجھے ہوئے ہیں وہ حقیقی دین داری کی فضا میں داخل ہوں۔ پھر اسی میں دور جدید کی اس سب سے بڑی خرابی کا حل بھی ہے جس نے اسلام کو تمام دنیا میں مسلمانوں کی قومی تحریکوں کا ضمیمہ بنا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ وہ ساری دنیا میں غیر مسلم اقوام کی زد میں آگئے۔ اس کے بعد قدرتی طور پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کو دوسری قومیں ظالموں اور غاصبوں کے روپ میں دکھائی دینے لگیں۔ ان کے اندر ہر جگہ مقابلہ آرائی کا ذہن ابھر آیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اب وہی باتیں اپیل کرتی ہیں جن میں ان کی دفاعی نفسیات کو تسکین ملتی ہو۔ مثلاً اسلام کی عسکری تعبیر، انبیار کے مشن کو حکومت و سیاست کی اصطلاحوں میں بیان کرنا، دوسری قوموں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف ہنگامہ آرائی، مصالحت (Adjustment) کے بجائے ٹکراؤ اور لڑائی کی باتیں ، وغیرہ ۔ یہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ اب اگر خاموش تعمیر اور دعوت آخرت کی بات کی جائے تو اس کو لوگ اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے یہ کوئی سازش ہے جوان کو اپنے دشمنوں کے محاذ سے ہٹا کر غیر متعلق چیزوں میں مصروف کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ دین کو اگر قومی نقوشوں میں بننے والے ڈھانچہ سے الگ کرکے ابدی حقیقتوں کی بنیاد پر کھڑا کر دیا جائے تو اس قسم کے تمام خیالات اپنے آپ بے زمین ہو جائیں گے۔ اسلام کی قومی تشریحات کسی آدمی کو اسی وقت تک اپیل کرتی ہیں جب کہ اس کا فکر قومی حالات کے نقشہ میں اُبھا ہوا ہو۔ اگر وہ قومی حالات سے اوپر اٹھ کر خدا کی ابدی کائنات میں جینے لگے تو اس قسم کی تشریحات و تعبیرات خود بخود اس کے لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page