Urdu book · احیاء اسلام

ذہنی بیداری

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو (الحج ۵۷) یہی بات تحویل قبلہ کے ذیل میں اس طرح فرمائی گئی ہے: اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو (البقرہ ۱۴۸) اس سلسلہ میں مزید ارشاد ہوا ہے کہ جس قبلہ پر تم اب تک تھے اس کو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے (البقرہ ۱۴۳) شریعتوں میں فرق کی توجیہہ عام طور پر ارتقار کی اصطلاحوں میں کی جاتی ہے۔ یعنی خدا کی شریعت سادہ اور غیر کامل صورت سے ترقی کر کے کامل صورت تک پہنچی ہے اور شریعتوں کا باہمی فرق اسی سبب سے ہے۔ مگر یہ توجیہہ سراسر بے بنیاد ہے۔ قرآن میں واضح طور پر تبدیلی شریعت کا سبب ابتلا بتایا گیا ہے نہ کہ ارتقا۔ شریعت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے دینی عقائد کا زندہ اظہار ہے۔ مگر ایک طریقہ پر تسلسل در تسلسل عمل کرتے کرتے ایسا ہوتا ہے کہ شریعت سے اس کی روح نکل جاتی ہے۔ وہ ایک ایسا خشک ڈھانچہ بن جاتی ہے جس سے آدمی کا نفسیاتی رشتہ ٹوٹ چکا ہو۔ اس وقت خدا شریعت کے قدیم ڈھانچہ کو بدل دیتا ہے تاکہ تقلیدی عمل کا خاتمہ ہو اور لوگ زندہ احساس اور تازہ فیصلہ کے تحت نئی شریعت کو اپنی زندگیوں میں اختیار کریں۔ اس وقت کھل جاتا ہے کہ کون شعور کے تحت خدا کی عبادت کر رہا تھا اور کون جمود اور تقلید کے تحت۔ بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو قبلہ قرار دینا تبدیلی شریعت کی ایک مثال ہے۔ اور اس کی وجہ قرآن میں یہ بتائی گئی ہے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ کون رسول کا متبع ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ یعنی اس بات کا امتحان کہ کون حقیقت کا پیرو ہے اور کون تقلیدی روایات کا۔ تقلیدی روایات کا پیرو اپنی مانوس عصبیوں سے چمٹا رہے گا اور جو حقیقت کا پیرو ہے وہ تقلیدی عمل کو چھوڑ دے گا اور فوراً اصلی حکم پر قائم ہو جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page