Urdu book · احیاء اسلام

اسلامی دعوت

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

سے وہ سعید روحیں چھان کر نکالی جائیں جو پورے شعور اور مکمل ارادہ کے ساتھ اپنے کو خدا کا محکوم بنالیں۔ جو محض حقیقت پسندی کی بنا پر خدا کی محکومی اختیار کریں نہ کہ مجبوری کی بنا پر۔ یہ وہ انوکھی ہستیاں ہیں جن کو یہ موقع تھا کہ وہ حق کو جھٹلا دیں مگر انھوں نے حق کو نہیں جھٹلایا۔ جن کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی انا کا جھنڈا اونچا کریں۔ مگر وہ اپنے کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر خدا کو صدرنشین بنانے پر راضی ہوگئے ۔ جن کو پوری طرح یہ آزادی ملی ہوئی تھی کہ وہ اپنی قیادت اور اپنے مفادات کا گنبند کھڑا کریں مگر انھوں نے ہر اپنے‘‘ کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈھادیا اور صرف حق کا گنبند کھڑا کر کے انھوں نے خوشی حاصل کی ۔ اس قسم کی نادر روحیں اس کے بغیر جنی نہیں جاسکتی تھیں کہ ان کو مکمل آزادی کے ماحول میں رکھا جائے اور آزادی کا حقیقی ماحول قائم کرنے کی ہر قیمت برداشت کی جائے۔ اسلامی دعوت کا مقصد ایسی ہی روحوں کو تلاش کرنا ہے اسلامی انقلاب دنیا میں سیاسی اور تمدنی انقلاب اسلامی دعوت کا براہ راست نشانہ نہیں۔ تاہم وہ اس کا بالواسطہ نتیجہ ہے۔ کسی معاشرہ میں جب قابل لحاظ تعداد ایسے افراد کی جمع ہو جائے جو اللہ کے لئے جینا اور اللہ کے لئے مرنا چاہتے ہوں تو قدرتی طور پر وقت کی سیاست اور تمدن پر انھیں کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اسلامی سیاست یا اسلامی نظام نام ہے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کا جو اللہ کے آگے اپنے کو بے نفس کر چکے ہوں۔ جنھوں نے اپنی ‘‘میں‘‘ کو خدا کے عظیم تر ‘‘میں‘‘ گم کر دیا ہو۔ جن کے جذبات واحساسات آخرت سے اتنا زیادہ متعلق ہو جائیں کہ دنیا میں ان کا کوئی حوصلہ باقی نہ رہے جو دوسرے کے دل کے درد کو اپنے سینہ میں محسوس کرتے ہوں۔ ایسے ہی افراد اسلامی نظام قائم کرتے ہیں اور ایسے افراد اسی وقت بنتے ہیں جب کہ ہر قسم کے دنیوی مقصد سے بلند ہو کر خالص آخرت کے لئے تحریک چلائی جائے۔ اس کے برعکس اگر مغردوں اور جلسوں کے زور پر کوئی انقلاب برپا کیا جائے تو وہ انقلاب نہیں ایک ٹربونگ ہوگا جہاں اسلام کے نعرے تو بہت ہوں گے مگر اسلام کے عمل کا کہیں وجود نہ ہوگا۔ ایسے لوگ حق کے تقاضوں کا نام لیں گے مگر عملاً اپنے گروہ کے تقاضوں کے سوا کوئی چیز ان کے سامنے نہ ہوگی۔ وہ انقلاب اسلامی کے ہنگامے برپا کریں گے مگر حقیقہ ً ان کا مدعا یہ ہوگا کہ دوسروں کو تخت سے ہٹا کر خود اس پر قابض ہوجائیں۔ وہ انسانیت اور اخلاق کے نام پر جلسوں اور تقریروں کی دھوم مچائیں گے مگر اس کا مقصود صرف یہ ہوگا کہ ایک خوبصورت عنوان پر اپنی قیادت کی شان قائم کریں۔ اسلامی انقلاب کی واحد لازمی شرط ’’بے میں‘‘ انسانوں کی فراہمی ہے اور موجودہ طرز کی تحریکوں سے سب سے کم جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ یہی ہے۔ بلکہ سیاسی اور قومی انداز کی یہ تحریکیں تو ‘‘میں ‘‘ کی غذا ہیں نہ کہ ‘‘میں‘‘ کی نفسیات کو ختم کرنے والی۔ خارجی انقلاب کو نشانہ بنانے والی تحریک افراد کے اندر کردار نہیں پیدا کر سکتی۔ کردار ہمیشہ ذاتی محرک سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ خارجی محرک سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page